وزیراعظم کی ہدایات کے باوجود اسلام آباد ایئرپورٹ پر امیگریشن صورت حال ابتر
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف کی واضح ہدایات کے باوجود اسلام آباد ایئرپورٹ پر امیگریشن کی صورت حال ابتر ہے۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کے دعووں کے برعکس غیر ملکی کاؤنٹرز میں سے اکثر بند ہیں جب کہ امیگریشن کاونٹرز پر مسافروں کی لمبی قطاریں لگ رہی ہیں۔
اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ڈیپارچر میں کاؤنٹرز 30 اور ارائیول کاؤنٹرز 40 ہیں۔ ڈیپارچر اور ارائیول لاؤنجز میں چند کاؤنٹرز سے کام چلایا جارہا ہے۔ ائیرپورٹ پر ہزاروں مسافروں کے لیے صرف چند امیگریشن کاؤنٹرز دستیاب ہیں۔ علاوہ ازیں اسٹاف کی کمی کے باعث بھی مسافروں کی طویل قطاریں برقرار ہیں۔
امیگریشن نظام میں تاخیر کی وجہ سے مسافروں کو اب بھی گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ غیر ملکی سیاح اور سرمایہ کار لمبے انتظار سے پریشان اور اضطراب کا شکار ہو رہے ہیں۔نئے کاؤنٹرز کا اعلان کردیا گیا ہے، تاہم سہولیات اور تربیت نہ ہونے کے برابر ہیں۔
مسافر فیملیز کا کہنا ہے کہ امیگریشن پراسس میں ڈیڑھ سے 2 گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔ بزرگ بچے ساتھ ہوتے ہیں اور کئی کئی گھنٹے اذیت ناک عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر ایئرپورٹ امیگریشن کا عمل تیز کرنے کے دعوے حقیقت سے دور نظر آ رہے ہیں اور ایف آئی اے کے اعلان کے باوجود اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر زمینی حقائق تبدیل نہیں ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایئرپورٹ پر اسلام آباد
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔