سابق وزیراعظم نے تحفے میں ملاسونَے کا لوٹا پیتل سے تبدیل کیا،فیاض چوہان کے سنگین الزامات
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 اگست2025ء)پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما اور عمران خان کے سابق میڈیا ایڈوائزر فیاض الحسن چوہان نے انکشاف کیا ہے کہ کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر سابق وزیراعظم کو ملنے والا سونے کا لوٹا انہوں نے پیتل کے لوٹے میں تبدیل کروایا اور اس لوٹے پر سونے کا پانی چڑھوا کر اسے توشہ خانہ میں جمع کروا دیا۔
ایک انٹرویو کے دوران فیاض الحسن چوہان نے کہاکہ آپ نے بڑی بڑی کرپشن دیکھی ہوگی لیکن جنوری یا فروری 2019 میں کرتار پور راہداری کا افتتاح ہوا، تقریب میں جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ، اس وقت کے وزیراعظم (عمران خان) بھی موجود تھے، اس موقع پر سکھوں نے اس وقت کے وزیراعظم (عمران خان) کو سونے کا لوٹا بطور تحفہ پیش کیا۔(جاری ہے)
فیاض الحسن چوہان نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا نام لیے بغیر انہیں بہت بڑا نوسز باز، لالچی اور حریص قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے وہ سونے کا لوٹا راولپنڈی کے صرافہ بازار سے پیتل کے لوٹے میں تبدیل کروایا، پھر پیتل کے لوٹے پر سونے کی قلعی کروا کر اسے توشہ خانہ میں جمع کروایا اور اصل سونے کا لوٹا اپنے پاس رکھ لیا، یہ ان کا کرپشن کا لیول ہے۔
سابق صوبائی وزیر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ انہیں (سابق وزیراعظم) کو ملائیشیا سے ایک ڈنر سیٹ ملا پرچ اور پلالیوں کا، انہوں نے پرچ پیالیاں بھی راولپنڈی کے راجا بازار میں بیچ دیں۔فیاض الحسن چوہان نے کہا پھر یہ کہتے ہیں کہ میں نے دنیا دیکھی ہے، میں شہرت، عزت، وقار، پیسہ اور سب کچھ دیکھ چکا ہوں، یہ لالچی انسان اور لوٹا چور ہے، آج پوری دنیا کے سامنے میں انہیں لوٹا چور کا لقب دوں گا، بدقسمتی سے یہ پاکستان کا وہ سابق وزیراعظم ہے جو لوٹا چور ہے، یہ بات ٹھیک ہے کہ لوٹا سونے کا تھا لیکن یہ ہے تو لوٹا چور۔انہوں نے کہا کہ یہ بندہ آج 14 اگست ہو یا 6 ستمبر، پاکستان کی عزت، وقار، خوشحالی، سالمیت، خود داری اور مستقبل کا جنازہ نکالنے میں لگا ہوا ہے کہ مجھے رہا کرو، باقی سب کچھ جائے بھاڑ میں، تو ان کا 14 اگست پر جو پلان ہے یہ اس میں بھی ذلیل و خوار ہوں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے فیاض الحسن چوہان نے سونے کا لوٹا انہوں نے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔