چین میں چکن گونیا کا خوفناک پھیلاؤ! صرف ایک ماہ میں 8 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ میں چکن گونیا کا پھیلاؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ حکام کے مطابق صرف ایک ماہ میں 8 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
چینی حکام نے مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ڈرونز کے ذریعے مچھر مار اسپرے کیا جا رہا ہے اور کھلے مقامات سے ایسے برتن ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے جن میں پانی جمع ہو کر مچھروں کی افزائش کا باعث بن سکتا ہے۔
صحت کے حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ مچھروں سے بچاؤ کے اقدامات کریں اور کسی بھی مشتبہ علامت کی صورت میں فوری اسپتال جائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ چکن گونیا عام طور پر ایشیا، افریقا اور جنوبی امریکا میں سامنے آتا رہتا ہے، لیکن چین میں اس قدر تیزی سے پھیلاؤ پہلی بار دیکھا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔