مستونگ، ٹریک پر دھماکہ، 6 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں: خانپور پھاٹک پر عوام ایکسپریس ڈی ریل
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
کوئٹہ+ مستونگ+ رحیم یار خان (نوائے وقت رپورٹ+ این این آئی) بلوچستان کے علاقے مستونگ میں ریلوے ٹریک پر بم دھماکے کے نتیجے میں جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔ ریلوے ذرائع کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دھماکہ جعفر ایکسپریس کے گزرنے کے دوران ہوا، جو کوئٹہ سے راولپنڈی جا رہی تھی۔ ریلوے انتظامیہ کے مطابق سکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہیں، جبکہ ٹریک کی بحالی کا عمل بھی شروع کر دیا گیا۔ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس اور بولان میل سروس تین روز کیلئے معطل کر دی گئیں۔ ریلوے ترجمان کے مطابق جعفر ایکسپریس کی سروس 13, 11 اور 14 اگست کو معطل رہے گی۔ 11 اگست کو کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس نہیں چلے گی۔ پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس کی سروس 13 اگست کو معطل رہے گی ۔ 14 اگست کو کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس بھی نہیں چلے گی۔ کراچی سے کوئٹہ آنے والی بولان میل کی سروس بھی معطل کی گئی ہے۔ کوئٹہ کے لیے چلنے والی بولان میل 16 اگست کو چلائی جائے گی۔ دریں اثناء رحیم یار خان میں خان پور سٹی پھاٹک پر عوام ایکسپریس کی 3 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ٹرین پشاور سے کراچی جا رہی تھی۔ روہڑی اور سمہ سٹہ سے امدادی ٹرین موقع پر پہنچ گئی۔ ٹریک کوہنگامی طور پر امدادی سرگرمیوں اور مرمت کے بعد بحال کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جانے والی جعفر ایکسپریس ایکسپریس کی اگست کو
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔