WE News:
2026-07-24@03:15:12 GMT

کوئٹہ میں ریلوے آپریشن معطل، متعدد ٹرینیں منسوخ

اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT

کوئٹہ میں ریلوے آپریشن معطل، متعدد ٹرینیں منسوخ

سپیزنڈ میں دھماکے سے جعفر ایکسپریس کے متاثرہ ہونے کے باعث کوئٹہ میں ریلوے آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: جعفر ایکسپریس ٹریک پر دھماکا، 5 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں

 ریلوے حکام کے مطابق 11 اور 14 اگست کو کوئٹہ سے ٹرین آپریشن بند رہے گا جبکہ 10 اور 13 اگست کو پشاور سے کوئٹہ آنے والی ٹرینیں بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ بولان میل، جو 10 اگست کو کراچی سے روانہ ہونی تھی، اب 16 اگست کو کوئٹہ کے لیے روانہ ہو گی۔ سپیزنڈ میں پیش آنے والے واقعے کے بعد جعفر ایکسپریس میں سوار تمام 350 مسافروں کو بحفاظت کوئٹہ پہنچا دیا گیا اور ان کے ٹکٹ کی رقم بھی واپس کردی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سبی میں ریلوے ٹریک پر دھماکہ، جعفر ایکسپریس سانحے سے بال بال بچ گئی

ریلوے حکام نے مزید بتایا کہ متاثرہ ٹرین کی بوگیاں بھی جلد کوئٹہ منتقل کر دی جائیں گی تاکہ مرمت اور بحالی کا عمل مکمل کیا جاسکے۔

یاد رہے کہ کوئٹہ کے قریب سپیزند اسٹیشن کے نزدیک ٹریک پر نصب آئیڈینٹیفائیڈ ایکسپلوسیو ڈیوائس کے دھماکے سے پشاور جانے والی 39 اپ جعفر ایکسپریس کی 5 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: شکارپور: ریلوے ٹریک پر دھماکا، جعفر ایکسپریس کی 3 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں

وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس واقعے کو دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی سازشیں پاکستان ریلویز کے عزم کو کبھی کمزور نہیں کر سکتیں۔

اس سے قبل 7 اگست کو بلوچستان کے ضلع سبی میں ریلوے ٹریک پر دھماکا ہوا تھا، تاہم اس دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، پولیس کے مطابق سبی ریلوے اسٹیشن کے قریب ریلوے ٹریک پر اُس وقت دھماکہ ہوا جب جعفر ایکسپریس پنجاب سے گزر کر روانہ ہوچکی تھی، دھماکے سے ٹریک کو معمولی نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بلوچستان پاکستان ریلوے پشاور ٹرین سروس معطل جعفر ایکسپریس دھماکہ ریلوے ٹریک سپیزنڈ کوئٹہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان پاکستان ریلوے پشاور جعفر ایکسپریس دھماکہ ریلوے ٹریک سپیزنڈ کوئٹہ جعفر ایکسپریس ریلوے ٹریک پر میں ریلوے اگست کو

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار