عمران خان اپنا طبی معائنہ کہاں سے کروانا چاہتے ہیں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
عمران خان نے اپنا طبی معائنہ کروانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے ذریعے اسلام آباد میں دائر درخواست میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے شوکت خانم اسپتال سے اپنا طبی معائنہ کروانے کی استدعا کی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کرانے کا حکم دیا جائے ۔ شوکت خانم کے ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم کو ہر ماہ طبی معائنہ اور ضروری ٹیسٹ کرنے کی اجازت دی جائے ۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ فریقین کو میڈیکل رپورٹس کی کاپی عدالت اور بانی پی ٹی آئی کے فیملی اراکین کے ساتھ شئیر کرنے کا حکم دیا جائے ۔ فوری ریلیف کے لیے بانی پی ٹی آئی کے 3 دن میں شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹروں سے معائنے کا حکم دیا جائے ۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں محکمہ داخلہ پنجاب، صوبائی حکومت اور آئی جی جیل خانہ جات کو فریق بنایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں جیل اسپتال اور شوکت خانم اسپتال بھی درخواست میں فریق ہیں۔
عدالت میں درخواست علی امین گنڈا پور نے وکیل راجا ظہور الحسن ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی ہے۔
درخواست کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی عمر72 سال ہے اور معمول کا طبی معائنہ ضروری ہے۔ جیل میں قید کے دوران بانی پی ٹی آئی کا وزن کم ہوگیا ہے ۔ ان کے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی طبی ہسٹری شوکت خانم اسپتال کے پاس موجودہے، وہاں کی ٹیم کو ماہانہ طبی معائنہ اور ضروری ٹیسٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر ثمینہ نیازی کوطبی معائنہ اور ٹیسٹوں کے لیے بانی پی ٹی آئی تک رسائی کا حکم دیاجائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شوکت خانم اسپتال بانی پی ٹی آئی درخواست میں اسلام آباد کا حکم
پڑھیں:
بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔
علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔
مزید پڑھیںاڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے
علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔