’چھنو کی آنکھ میں اک نشہ ہے‘ پر گورنر سندھ کا رقص وائرل
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
فوٹو اسکرین گریب انسٹا گرام
جشن آزادی اور معرکہ حق کے حوالے سے گورنر ہاؤس کراچی میں منعقدہ تقریب میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی رقص کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
تقریب میں ملک کے نامور گلوکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا، جس میں عاطف اسلم اور علی ظفر نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔
اس دوران گانوں پر گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے اسٹیج پر رقص کیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
ویڈیو میں گورنر سندھ گلوکار علی ظفر کے مشہور گانے ’چھنو کی آنکھ میں اک نشہ ہے‘ پر ڈانس کرتے نظر آرہے ہیں۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی زیرِ صدارت ہونے والی تقریب میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جہاں جشنِ آزادی کے موقع پر خصوصی آتشبازی کا اہتمام کیا گیا۔
جشنِ آزادی کے سلسلے میں گورنر ہاؤس کراچی میں ’معرکۂ حق‘ کے عنوان سے شاندار آتشبازی کا مظاہرہ کیا گیا، جو رات 12 بج کر 55 منٹ پر شروع ہوا۔
گورنر ہاؤس میں ایشیا کا سب سے بڑا اسٹیج بھی تیار کیا گیا تھا، جس پر ملکی فنکاروں نے پرفارمنسز پیش کیں، شہریوں کی بڑی تعداد نے آتش بازی، روشنیوں اور فنکاروں کی پرفارمنسز سے بھرپور لطف اٹھایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گورنر سندھ کا
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔