اچھی خبریں آرہی ہیں، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل محنت کر رہے ہیں، کامران ٹیسوری
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
پریس کانفرنس کرتے ہوئے کامران ٹیسوری نے کہا کہ پاکستان بھی چین کی طرح ترقی کرسکتا ہے، چین کے لوگ ہمیں آئرن برادر کہتے ہیں، کل میرے پاس جماعت اسلامی کے لوگ آئے تھے، جماعت اسلامی کے افراد کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کی۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ اچھی خبریں آرہی ہیں، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل محنت کر رہے ہیں۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ کہا جاتا تھا کہ اچھا ٹائم آئے گا، اب اچھا ٹائم آگیا ہے، دورہ چین کامیاب ترین رہا، چین کی ترقی قابلِ تحسین ہے۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ پاکستان بھی چین کی طرح ترقی کرسکتا ہے، چین کے لوگ ہمیں آئرن برادر کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل میرے پاس جماعت اسلامی کے لوگ آئے تھے، جماعت اسلامی کے افراد کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کی۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں کسی سیاسی جماعت کا کوئی پرچم نہیں، تمام گورنرز کا تعلق کسی نا کسی جماعت سے ہے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ وکیل احمد علی گبول میرے ساتھ موجود ہیں انہوں نے میرے خلاف درخواست دی تھی، کل میری وکیل احمد سے ملاقات ہوئی میں نے انہیں اپنی کارکردگی کا بتایا، احمد علی گبول نے کہا کہ کل وہ جا کر اپنی درخواست واپس لے رہے ہیں، میں نے انہیں کہا کہ میری طرف سے کوئی زبردستی نہیں آپ کی مرضی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کامران ٹیسوری نے کہا کہ جماعت اسلامی کے پریس کانفرنس گورنر سندھ کے لوگ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔