بھارتی ریاست اترپردیش کے سیتاپور میں بیسک شکشا ادھیکاری (بی ایس اے) کے دفتر میں ایک ہیڈماسٹر نے بی ایس اے اکھیلیش پرتاپ سنگھ پر مبینہ طور پر بیلٹ سے حملہ کر دیا، جس کا واقعہ سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہو کر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے۔

ملزم کی شناخت برجندر کمار ورما کے طور پر ہوئی ہے، جو مہمد آباد بلاک کے ندوا وشیشور گنج پرائمری اسکول کے ہیڈماسٹر ہیں۔ وہ دفتر میں ایک خاتون ٹیچر کی جانب سے درج شکایات پر وضاحت دینے آئے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق، بی ایس اے سنگھ ان کی وضاحت سے مطمئن نہیں تھے، جس کے باعث تکرار شدت اختیار کر گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ’برٹش راج کا بدلہ لے گا نیا انڈیا‘، لندن بس پر بھارتیوں کے قبضے کی ویڈیو وائرل

رپورٹس کے مطابق، اچانک ورما نے ایک فائل زور سے بی ایس اے کی میز پر پٹکی، بیلٹ نکالا اور افسر پر متعدد بار حملہ کیا۔ صرف چھ سیکنڈ کے اندر ہی افسر پر کم از کم پانچ وار کیے گئے۔ جب بی ایس اے سنگھ نے پولیس کو اطلاع دینے کی کوشش کی، تو ورما نے ان کا موبائل فون چھین کر توڑ دیا۔ اس کے علاوہ، ورما نے سرکاری ریکارڈز کو بھی پھاڑ دیا اور کلرک پریم شنکر موریہ کے ساتھ بھی ہاتھا پائی کی جب وہ مداخلت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

In Sitapur, UP, headmaster Brijendra Kumar Verma assaulted BSA Akhilesh Pratap Singh with a belt after a heated argument over a complaint.

Staff intervened to rescue the BSA.
pic.twitter.com/SNIgXmx6Pp

— Ghar Ke Kalesh (@gharkekalesh) September 23, 2025

یہ پورا واقعہ دفتر میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہو گیا، جس میں عملہ بی ایس اے کو بچانے کے لیے دوڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ واقعے کے باعث دفتر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔

پولیس نے بتایا کہ ٹوٹے ہوئے موبائل فون، پھاڑی گئی فائلیں اور بیلٹ کو شواہد کے طور پر قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات اور بی ایس اے کی شکایت کی بنیاد پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’خود کو ناچتے دیکھ کر مزہ آیا‘ نریندر مودی کا اپنی وائرل ویڈیو پر تبصرہ

بی ایس اے اکھیلیش پرتاپ سنگھ کو زخمی حالت میں طبی معائنے کے لیے منتقل کیا گیا ہے تاکہ ان کے زخموں کی نوعیت معلوم کی جا سکے۔ اپنی شکایت میں انہوں نے اس حملے کو ’جان لیوا حملے کی منصوبہ بندی‘ قرار دیتے ہوئے سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف ان کی زندگی کے لیے خطرہ ہے بلکہ سرکاری کام میں بھی خلل کا باعث بنا ہے۔

دوسری جانب، برجندر کمار ورما نے بی ایس اے پر ہراسانی کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ سنگھ خاتون ٹیچر کے تنازعے میں ان پر دباؤ ڈال رہے تھے۔ ورما نے دعویٰ کیا ہے کہ ’وضاحت کے دوران بحث بڑھ گئی اور دونوں طرف سے ہاتھا پائی ہو گئی‘۔

پولیس نے تصدیق کی ہے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور بیانات اور طبی رپورٹس کی روشنی میں مناسب قانونی کارروائی کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اتر پردیش اسکول ٹیچر کا حملہ بھارت وائرل ویڈیو

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اتر پردیش اسکول ٹیچر کا حملہ بھارت وائرل ویڈیو بی ایس اے دفتر میں کے لیے

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل