4 سال قبل طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد امریکا میں پناہ لینے والے افغانوں کی زندگی آج بھی غیر یقینی اور خوف کے سائے میں گھری ہوئی ہے۔ کئی افغان ابھی بھی قانونی طور پر غیر مستحکم حیثیت میں ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں نے ان کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔

مزید پڑھیں:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سرکاری دورے پر کابل پہنچ گئے

کچھ افغان خصوصی ویزوں (SIV) یا ہنگامی پناہ کے تحت امریکا آئے، مگر ٹرمپ انتظامیہ نے عارضی حفاظتی حیثیت ختم کر دی اور پناہ گزین پروگراموں کو محدود کر دیا، جس سے ہزاروں افغان غیر قانونی حیثیت میں آنے اور ڈی پورٹیشن کے خطرے میں ہیں۔

مزید پڑھیں:نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی کابل میں افغان اور ازبک وزرائے خارجہ سے ملاقات

ماہرین کے مطابق، یہ پالیسیز افغان کمیونٹی میں خوف و عدم تحفظ کو بڑھا رہی ہیں اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا مشکل بنا رہی ہیں۔ اس کے باوجود افغان پناہ گزین اپنی مضبوط کمیونٹی اور صبر کی بدولت امید برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغان کمیونٹی امریکا ٹرمپ انتظامیہ طالبان کابل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغان کمیونٹی امریکا ٹرمپ انتظامیہ طالبان کابل

پڑھیں:

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی