امریکا: افغان کمیونٹی میں غیریقینی صورتحال، ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں نے مشکلات بڑھا دیں
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
4 سال قبل طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد امریکا میں پناہ لینے والے افغانوں کی زندگی آج بھی غیر یقینی اور خوف کے سائے میں گھری ہوئی ہے۔ کئی افغان ابھی بھی قانونی طور پر غیر مستحکم حیثیت میں ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں نے ان کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔
مزید پڑھیں:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سرکاری دورے پر کابل پہنچ گئے
کچھ افغان خصوصی ویزوں (SIV) یا ہنگامی پناہ کے تحت امریکا آئے، مگر ٹرمپ انتظامیہ نے عارضی حفاظتی حیثیت ختم کر دی اور پناہ گزین پروگراموں کو محدود کر دیا، جس سے ہزاروں افغان غیر قانونی حیثیت میں آنے اور ڈی پورٹیشن کے خطرے میں ہیں۔
مزید پڑھیں:نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی کابل میں افغان اور ازبک وزرائے خارجہ سے ملاقات
ماہرین کے مطابق، یہ پالیسیز افغان کمیونٹی میں خوف و عدم تحفظ کو بڑھا رہی ہیں اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا مشکل بنا رہی ہیں۔ اس کے باوجود افغان پناہ گزین اپنی مضبوط کمیونٹی اور صبر کی بدولت امید برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان کمیونٹی امریکا ٹرمپ انتظامیہ طالبان کابل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان کمیونٹی امریکا ٹرمپ انتظامیہ طالبان کابل
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔