پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں ،6معروف فوڈ انڈسٹریز کو 10لاکھ جرمانہ ،1مشہور بیورجز فیکٹری بند
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 اگست2025ء) پنجاب فوڈ اتھارٹی نے کارروائیاں کر کے 6معروف فوڈ انڈسٹریز کو 10لاکھ جرمانہ اور 1مشہور بیورجز فیکٹری بند کروا دی ۔ قوانین پر عملدرآمد نہ کرنے والی معروف فوڈ انڈسٹریز پنجاب فوڈاتھارٹی کے شکنجے میں آگئیں ۔ ڈی جی فوڈاتھارٹی عاصم جاوید نے فوڈ سیفٹی ٹیموں کے ہمراہ لاہور بھر میں کریک ڈائون کیا ، معروف بیورجز انڈسٹری، آئسکریم فیکٹری، کافی،کیک پروڈکشن یونٹس،آئل مل کیخلاف ایکشن،چیکنگ کے دوران 2من شہد،مصالحہ جات،کیمیکلزتلف کر دیئے گئے ۔
ڈی جی فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید نے بتایا کہ سابقہ دی گئی ہدایات پر عمل درآمد نہ ہونے پر ایکشن لیا گیا، سٹوریج پروسیسنگ ایریا میں مکھیاں، چھپکلیاں، چوہے، فنگس زدہ دیواریں پائی گئیں، گندے فرش، ٹوٹی ٹائیلیں، حشرات کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات نہ تھے، آئسکریم انڈسٹری میں لیکج کے باعث خام مال متاثر پایا گیا، ملازمین کے میڈیکل، ٹریننگ سرٹیفکیٹس عدم موجود پائے گئے، پروسیسنگ ایریا میں ایکسپائر اشیا موجود، الگ سیکشن نہ بنایا گیا تھا۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ فوڈ انڈسٹریز میں ناقص انتظامات، ایکسپائر اشیا کی برآمدگی انتہائی نامناسب عمل ہے، تمام اضلاع میں معروف فوڈ انڈسٹریز سے لیکر چھوٹے ڈھابے تک کی مامیٹرنگ کی جارہی ہے،وارننگ، جرمانے، عارضی بندش بہت ہوگئی؛ اب مافیا کیخلاف مقدمات درج کروائے جائیں گے۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ ملاوٹ مافیا کے خلاف سخت ایکشن ضروری ہے، تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں، مارکیٹ میں شہریوں کو عمدہ کوالٹی اشیا کی دستیابی کے لیے فیلڈ آپریشنز جاری ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے فوڈ انڈسٹریز فوڈ اتھارٹی
پڑھیں:
موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو سمز کے محفوظ استعمال کے حوالے سے اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اپنی رجسٹرڈ سم کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنا قابلِ سزا جرم ہے اور اس کے سنگین قانونی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کے نام پر رجسٹرڈ سم غیرقانونی سرگرمیوں میں استعمال ہوتی ہے تو متعلقہ صارف کو بھی قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے شہری اپنی سم کسی دوسرے فرد کے استعمال کے لیے ہرگز نہ دیں۔
اتھارٹی نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر یہ تصدیق کریں کہ ان کے قومی شناختی کارڈ پر کتنی سمیں رجسٹرڈ ہیں۔ اس مقصد کے لیے cnic.sims.pk پر جا کر یا اپنا 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر (بغیر ڈیش کے) 668 پر ایس ایم ایس کر کے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
اگر کسی نامعلوم یا غیر ضروری سم کی نشاندہی ہو تو اسے فوری طور پر بلاک کرایا جائے۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے