شدید بارشوں اور سیلاب کے بعد خیبر پختونخوا کے 8 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
ری ہیبلیٹیشن اینڈ سیٹلمنٹ ڈپارٹمنٹ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث صوبے کے 8 اضلاع میں ہنگامی صورتحال (ایمرجنسی) نافذ کی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے شمالی علاقوں میں بارشوں سے تباہی، جاں بحق افراد کی تعداد 300 سے تجاوز کر گئی
محکمہ کے سیکرٹری یوسف رحیم کے دستخط سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے کے اضلاع سوات، بونیر، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ، دیر بالا، دیر زیریں اور بٹگرام میں فوری طور پر 31 اگست 2025 تک ایمرجنسی نافذ رہے گی۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ان اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرہ آبادی کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں۔ پی ڈی ایم اے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مرکزی اسٹوریج جالوزئی سے متاثرہ اضلاع کو خیمے، اشیائے ضرورت اور دیگر امدادی سامان فراہم کرے۔ مزید یہ کہ اگر کسی ڈپٹی کمشنر کے پاس پہلے سے فراہم کردہ سامان موجود ہے تو وہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ابھی مزید بارشیں ہوں گی: این ڈی ایم اے نے تازہ ایڈوائزری جاری کردی
محکمہ ریلیف کے مطابق تمام اخراجات متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے ریلیف اکاؤنٹس سے پورے کیے جائیں گے، جبکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ خرچ ہونے والے فنڈز اور فراہم کردہ سامان کا مکمل ریکارڈ رکھا جائے اور باقاعدہ طور پر پی ڈی ایم اے اور صوبائی محکمہ ریلیف کو رپورٹ کیا جائے۔
حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کی کاپی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے پرنسپل سیکرٹری، چیف سیکرٹری کے پرسنل اسٹاف آفیسر، کمشنرز ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے، اور متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی ارسال کر دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایمرجنسی بارش پاکستان خیبرپختونخوا سیلاب ہنگامی صورتحال.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمرجنسی پاکستان خیبرپختونخوا سیلاب ہنگامی صورتحال ڈی ایم اے گئی ہے
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔