غزہ: 24 گھنٹوں کے دوران مزید 70 فلسطینی شہید،خوراک کا بدترین بحران جاری
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
غزہ: 24 گھنٹوں کے دوران مزید 70 فلسطینی شہید،خوراک کا بدترین بحران جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 16 August, 2025 سب نیوز
یروشلم(سب نیوز )غزہ میں اب تک اسرائیلی فورسز نے 61 ہزار 897 افراد کو بے دردی کے ساتھ شہید کیا جب کہ ایک لاکھ 55 ہزار 660 افراد مختلف حملوں میں زخمی ہوئے ہیں۔قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی وزرات صحت نے گزشتہ روز سے اب تک مزید 70 شہید فلسطینیوں کی لاشوں کو ہسپتالوں منتقل کرنے کی تصدیق کی ہے، جن میں سے 8 لاشیں ملبے تلے یا دیگر مقامات سے نکالی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کیدوران کم از کم 26 افراد کو امداد کے حصول کی کوششوں کے دوران شہید اور 175 کو زخمی کیا گیا۔ وزرات صحت کے اعداد و شمار کے مطابق امداد حاصل کرنیکی کوشش کے دوران اب تک شہید ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد ایک ہزار 924 اور زخمیوں کی تعداد 14 ہزار 288 تک پہنچ چکی ہے۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ اسرائیل نے 18 مارچ کو جنگ بندی معاہدے کو توڑنے کے بعد سے غزہ کا مکمل محاصرہ کرنے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر فضائی حملے شروع کیے، جس میں اب تک کم از کم 10 ہزار 362 افراد شہید اور 43 ہزار 619 زخمی رپورٹ ہوئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستانی ریموٹ سیٹلائٹ کامیابی سے فعال، خلا سے ہائی ریزولوشن تصاویر زمین پر بھیجنا شروع کردیں پاکستانی ریموٹ سیٹلائٹ کامیابی سے فعال، خلا سے ہائی ریزولوشن تصاویر زمین پر بھیجنا شروع کردیں پیوٹن کا صدر زرداری کو خط، پاکستان میں سیلاب سے جانی نقصان پر دکھ اور افسوس کا اظہار کویتی وزیر خارجہ کا اسحق ڈار سے رابطہ، سیلاب تباہ کاریوں پر اظہار افسوس، ہر ممکن تعاون کی پیشکش بالائی علاقوں کا سفر خطرناک قرار وزیراعظم کی ہدایت پر سیاحت سے متعلق ایڈوائزری جاری نائب وزیراعظم اسحاق ڈار تین روزہ سرکاری دورے پر برطانیہ پہنچ گئے وزیراعظم کی نوازشریف سے ملاقات، خیبر پختونخوا میں سیلابی صورتحال سے آگاہ کیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے دوران
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔