خیبر پختونخوا میں بادل پھٹنے کے بعد سیلابی ریلے تباہی کی داستانیں چھوڑ گئے
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
خیبر پختونخوا میں بادل پھٹنے کے بعد سیلابی ریلے تباہی کی داستانیں چھوڑ گئے، جاں بحق افراد کی تعداد 328 ہوگئی۔
بونیر میں مکینوں کے آشیانے اجڑ گئے، ہر طرف ملبے اور سیلابی ریلے میں بہہ کر آنے والے بڑے بڑے پتھروں کے ڈھیر لگ گئے۔
متاثرہ علاقوں میں پی ڈی ایم اے، پاک فوج ، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اور مقامی رضاکاروں کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں، سیلاب میں جان سے جانے والوں کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔
سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ، بونیر میں سب سے زیادہ 157 ہلاکتیں ہوئیںڈپٹی کمشنر بونیر کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر کی مدد سے سیلاب میں پھنسے افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سوات میں سیلابی ریلوں سے نقصانات کے بعد لوگ اپنی مدد آپ کے تحت گھروں اور دکانوں کی صفائی میں مصروف ہیں۔
مینگورہ پولیس اسٹیشن میں سیلابی پانی داخل ہونے سے تہہ خانے میں رکھے ریکارڈ اور اسلحہ کو نقصان پہنچا۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) انویسٹی گیشن کا دفتر بھی متاثر ہوگیا، تھانے میں کھڑی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
وفاقی حکومت نے جاں بحق ہونے والوں کے گھر والوں کے لیے 20، 20 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا، سوات، بونیر، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ، دیر اور بٹگرام میں 31 اگست تک ہنگامی حالت نافذ کردی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔