غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف، برطانیہ، سوئیڈن، فن لینڈ اور اسرائیل میں ہزاروں افراد کے احتجاجی مظاہرے WhatsAppFacebookTwitter 0 17 August, 2025 سب نیوز

لندن (آئی پی ایس )فلسطینی عوام پر جاری اسرائیلی مظالم کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، برطانیہ، فن لینڈ، سوئیڈن اور حتی کہ اسرائیل کے اندر بھی عوام سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین کا اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا مطالبہ۔برطانیہ میں رائل ایئر فورس بیس کے باہر سینکڑوں افراد نے احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی فوری بند کی جائے۔

عالمی میڈیا کے مطابق اسٹاک ہوم کی اوڈن پلان اسکوائر میں مظاہرین جمع ہوئے جہاں انہوں نے غزہ اور مغربی کنارے پر اسرائیل کی جارحیت اور صحافیوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی۔مظاہرین نے فلسطینی پرچم اٹھائے رکھے اور القاعدہ کے ہلاک ہونے والے صحافیوں کی تصاویر بھی دکھائیں۔ سیاہ لباس میں ملبوس مظاہرین نے علامتی تابوت بھی اٹھا کر ہلاک ہونے والے صحافیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔گذشتہ ہفتے غزہ شہر میں القاعدہ کے صحافیوں انس شریف اور محمد قریقع سمیت تین کیمرہ آپریٹرز اور ایک آزاد رپورٹر اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے تھے، جس نے صحافیوں کے خیمے کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے کے بعد غزہ میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی تعداد 238 ہو گئی ہے۔سوئیڈن میں فلسطینی صحافیوں کی یاد میں مارچ کیا گیا جو اسرائیلی فوج کے حملوں میں شہید ہو چکے ہیں۔ مظاہرین نے غزہ میں نسل کشی بند کرنے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں ہزاروں صحت کارکنوں نے رائل کالج آف سرجنز سے ایک مارچ نکالا، جس میں انہوں نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور اپنے محصور ساتھیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر صحت کارکنوں نے فلسطینی پرچم اٹھائے اور غزہ میں مارے گئے صحت کارکنوں کی تصاویر کے ساتھ خاموشی سے مارچ کیا۔

اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں بھی لوگ فلسطینیوں کے حق میں سڑکوں پر نکلے۔ ہاسنگ سیکرٹری میری میکالن بھی مظاہرین میں شامل تھیں اور انہوں نے فلسطین کے لیے امن ابھی کا نعرہ بلند کیا۔انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ مظالم بند ہونے چاہئیں، اور ہمیں نسل کشی کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔فن لینڈ میں فلسطین حامیوں نے ایک اسلحہ ساز کمپنی کے دفتر کے شیشوں پر سرخ رنگ پھینک کر اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔انگلینڈ کے نورویچ میں فلسطین ایکشن کے حق میں مظاہرے کے دوران 13 افراد کو پولیس نے گرفتار کرلیا، جبکہ لندن میں گزشتہ ہفتے 500 سے زائد افراد کو احتجاج کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔بکنگھم شائر میں ہزاروں افراد نے رائل ایئر فورس کے ہائی وائی کامب بیس کے گرد احتجاج کیا اور برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنی فوجی تعاون ختم کرے۔ دوسری جانب اسرائیل کے اندر بھی ہزاروں افراد حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ تل ابیب میں مظاہرین نے فوجی ہیڈکوارٹرز کے باہر احتجاج کیا اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس سے معاہدہ کرنے کا مطالبہ کیا۔فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی جارحیت اب تک 61,900 سے زائد افراد کی جان لے چکی ہے۔ گزشتہ نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات شروع کی ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمون سون بارشوں سے پاکستان میں اموات کی تعداد 645ہوگئی، این ڈی ایم اے مون سون بارشوں سے پاکستان میں اموات کی تعداد 645ہوگئی، این ڈی ایم اے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی ترسیل، وفاقی وزرا کو ٹاسک تفویض خیبرپختونخوا میں سیلاب سے تباہی، صوبائی حکومت کی وفاق سے مدد کی اپیل قبائلی علاقوں میں مسلح گروہوں کا راج، سرکاری فنڈزکا 10فیصدیہ گروہ لیجاتے ہیں، فضل الرحمان خیبرپختونخوا حکومت کے تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس مل گیا پنجاب کے دریاوں میں پانی کی سطح مسلسل بلند، درجنوں دیہات سے زمینی رابطہ منقطع TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ہزاروں افراد کے خلاف فن لینڈ

پڑھیں:

بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی

 بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔

وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026


بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔

وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔

مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی

واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔

مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔

ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی حملوں کا خوف؛ اسرائیلی وزیراعظم کی امریکا کی جانب دوڑ؛ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے
  • دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم