پاراچنار، بوشہرہ میں شیعہ، سنی عمائدین کا جرگہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
ضلعی انتظامیہ کی ثالثی سے شیعہ سنی اقوام کا مشترکہ جرگہ ہوا۔ دونوں فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حالیہ کچھ دنوں سے درپیش صورتحال کا مل کر مقابلہ کرینگے اور شرپسند عناصر کی نفی کرکے علاقے کے لئے امن برقرار رکھے گے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
پاراچنار، بوشہرہ میں شیعہ، سنی عمائدین کا جرگہ
پاراچنار، بوشہرہ میں شیعہ، سنی عمائدین کا جرگہ
پاراچنار، بوشہرہ میں شیعہ، سنی عمائدین کا جرگہ
پاراچنار، بوشہرہ میں شیعہ، سنی عمائدین کا جرگہ
پاراچنار، بوشہرہ میں شیعہ، سنی عمائدین کا جرگہ
پاراچنار، بوشہرہ میں شیعہ، سنی عمائدین کا جرگہ
پاراچنار، بوشہرہ میں شیعہ، سنی عمائدین کا جرگہ
پاراچنار، بوشہرہ میں شیعہ، سنی عمائدین کا جرگہ
پاراچنار، بوشہرہ میں شیعہ، سنی عمائدین کا جرگہ
اسلام ٹائمز۔ سیکرٹری انجمن حسینیہ حاجی ضامن حسین طوری کے قیادت میں طوری بنگش اقوام پر مشتمل وفد نے بوشہرہ کا دورہ کیا، جہاں ضلعی انتظامیہ کی ثالثی سے شیعہ سنی اقوام کا مشترکہ جرگہ ہوا۔ دونوں فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حالیہ کچھ دنوں سے درپیش صورتحال کا مل کر مقابلہ کرینگے اور شرپسند عناصر کی نفی کرکے علاقے کے لئے امن برقرار رکھے گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سنی عمائدین کا جرگہ
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔