شوہر نے حاملہ بیوی کے ٹکڑے کر کے دریا میں پھینک دیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, August 2025 GMT
بھارتی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد میں شوہر نے بیوی کو قتل کرنے کے بعد اس کے جسم کے ٹکڑے کر کے اعضاء دریا میں پھینک دیے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق حیدرآباد کے قریب میڈی پلی کے علاقے میں ایک لرزہ خیز واردات سامنے آئی ہے، جہاں ایک شخص نے اپنی 5 ماہ کی حاملہ بیوی کو قتل کر کے اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 27 سالہ ملزم مہیندر نے خاندانی جھگڑوں کے باعث اپنی 21 سالہ بیوی کا گلا گھونٹ کر قتل کیا اور ثبوت مٹانے کے لیے اس کی لاش کے اعضاء الگ کر دیے۔
ملزم نے آری سے بیوی کے جسم کے ٹکڑے کیے اور اعضاء کو دریا میں پھینک دیا، دونوں نے کچھ عرصہ قبل محبت کی شادی کی تھی۔
ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے بیوی کو قتل کرنے کے بعد اس کا سر، ہاتھ اور پیر الگ الگ جگہوں پر پھینکے ہیں۔
خاتون کے جسم کا باقی حصہ گھر میں ہی رہنے کی وجہ سے بدبو آ رہی تھی، جس پر مقامی لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی۔
پولیس جب جائے وقوع پر پہنچی اور تھیلوں کا معائنہ کیا تو مہیندر کے گھر میں اس کی بیوی سواتی کا دھڑ ملا جس پر پولیس نے فوری طور پر مہیندر کو گرفتار کر لیا۔
مقتولہ سواتی کی والدہ کا کہنا ہے کہ مہیندر نے ان کی بیٹی کو ورغلا کر گھر سے بھگا کر شادی کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بیٹی سے شادی کے بعد مہیندر مکمل طور پر بدل گیا تھا اور ان کی بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنانے لگا، یہاں تک کہ فون پر بات بھی نہیں کرنے دیتا تھا۔
پاپا، دادی نے مما پر پیٹرول ڈالا، تھپڑ مارے، لائٹر سے آگ لگا دی: ماں کو جلتا دیکھنے والے بیٹے نے روداد سنا دی
مقتولہ کی والد نے نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔
پولیس کے مطابق اس قتل کو منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا گیا ہے اور جسم کے باقی حصوں کی تلاش کے لیے ندی میں چھان بین جاری ہے۔
مقتولہ کال سینٹر میں نوکری کرتی تھی، لیکن شوہر کے شک کرنے کی وجہ سے اسے کام چھوڑنا پڑا، 22 اگست کو خاتون نے والدین کے گھر جانے کی خواہش ظاہر کی جس پر دونوں میں جھگڑا ہو گیا اور اسی روز ملزم نے قتل کا منصوبہ بنا کر اسے انجام دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کیلئے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ علاقے میں کل دیر رات افراتفری مچ گئی، جب کچھ شرپسند عناصر معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔ واقعے میں کوچنگ سینٹر میں موجود کئی سامان کو نقصان پہنچا جب کہ وہاں تعینات ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ سر میں چوٹ لگنے کے بعد اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ پولیس حرکت میں آگئی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی، کدم کنواں پولس اسٹیشن اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس کی ٹیمیں رات گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور عہدیدارون کی جانب سے شواہد اکٹھے کئے گئے۔
واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے خان سر نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ہزاروں طلباء کو بہار پولیس بھرتی امتحان میں منتخب کیا گیا تھا، جس نے کچھ کمپٹیشن کرنے والے کوچنگ اداروں کو پریشان کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے نتیجے میں حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ خان سر نے کہا کہ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ہم اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں، ہمیں اتنے اچھے نتائج کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہزاروں طلباء کے نتائج آتے ہیں تو کچھ سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کے لئے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کچھ طلباء نے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ واقعے میں ایک گارڈ زخمی ہوا، اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔