Daily Mumtaz:
2026-07-24@02:14:23 GMT

شوہر نے حاملہ بیوی کے  ٹکڑے کر کے دریا میں پھینک دیا

اشاعت کی تاریخ: 24th, August 2025 GMT

شوہر نے حاملہ بیوی کے  ٹکڑے کر کے دریا میں پھینک دیا

بھارتی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد میں شوہر نے بیوی کو قتل کرنے کے بعد اس کے جسم کے ٹکڑے کر کے اعضاء دریا میں پھینک دیے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق حیدرآباد کے قریب میڈی پلی کے علاقے میں ایک لرزہ خیز واردات سامنے آئی ہے، جہاں ایک شخص نے اپنی 5 ماہ کی حاملہ بیوی کو قتل کر کے اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 27 سالہ ملزم مہیندر نے خاندانی جھگڑوں کے باعث اپنی 21 سالہ بیوی کا گلا گھونٹ کر قتل کیا اور ثبوت مٹانے کے لیے اس کی لاش کے اعضاء الگ کر دیے۔
ملزم نے آری سے بیوی کے جسم کے ٹکڑے کیے اور اعضاء کو دریا میں پھینک دیا، دونوں نے کچھ عرصہ قبل محبت کی شادی کی تھی۔
ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے بیوی کو قتل کرنے کے بعد اس کا سر، ہاتھ اور پیر الگ الگ جگہوں پر پھینکے ہیں۔
خاتون کے جسم کا باقی حصہ گھر میں ہی رہنے کی وجہ سے بدبو آ رہی تھی، جس پر مقامی لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی۔
پولیس جب جائے وقوع پر پہنچی اور تھیلوں کا معائنہ کیا تو مہیندر کے گھر میں اس کی بیوی سواتی کا دھڑ ملا جس پر پولیس نے فوری طور پر مہیندر کو گرفتار کر لیا۔
مقتولہ سواتی کی والدہ کا کہنا ہے کہ مہیندر نے ان کی بیٹی کو ورغلا کر گھر سے بھگا کر شادی کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بیٹی سے شادی کے بعد مہیندر مکمل طور پر بدل گیا تھا اور ان کی بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنانے لگا، یہاں تک کہ فون پر بات بھی نہیں کرنے دیتا تھا۔
پاپا، دادی نے مما پر پیٹرول ڈالا، تھپڑ مارے، لائٹر سے آگ لگا دی: ماں کو جلتا دیکھنے والے بیٹے نے روداد سنا دی
مقتولہ کی والد نے نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔
پولیس کے مطابق اس قتل کو منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا گیا ہے اور جسم کے باقی حصوں کی تلاش کے لیے ندی میں چھان بین جاری ہے۔
مقتولہ کال سینٹر میں نوکری کرتی تھی، لیکن شوہر کے شک کرنے کی وجہ سے اسے کام چھوڑنا پڑا، 22 اگست کو خاتون نے والدین کے گھر جانے کی خواہش ظاہر کی جس پر دونوں میں جھگڑا ہو گیا اور اسی روز ملزم نے قتل کا منصوبہ بنا کر اسے انجام دیا۔

Post Views: 19.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے جسم جسم کے

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا