پاکستان ہاکی ٹیم کی جانب سے ملائیشیا میں ہوٹل بلز کی عدم ادائیگی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
پاکستان ہاکی ٹیم کی جانب سے اذلان شاہ ہاکی کپ کھیلنے کے دوران ملائیشیا کے ہوٹل کے بلز ادا نہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اذلان شاہ ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی، قومی ہاکی ٹیم کا وطن واپسی پر پُرتپاک استقبال
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کی جانب سے ہاکی فیڈ ریشن کے صدر کے انتخاب، مالی بے ضابطگیوں اور مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے رپورٹ کی تیاری پر کام کر رہی جس پر یہ حیران کن تفصیلات سامنے آئیں۔
حکمران جماعت مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ممبر قومی اسمبلی شیخ آفتاب کی سربراہی میں کام کرنے والی کمیٹی کا اجلاس پاکستان اسپورٹس بورڈ کے کمیٹی روم میں ہوا جس میں پی ایچ ایف کے صدر کی تعیناتی کی قانونی حیثیت، پاکستان ہاکی فیڈ ریشن کو حکومت کی جانب سے دی گئی گرانٹس، ان کے استعمال اور مالی بے قاعدگیوں جیسے معاملات پر مشتمل ایجنڈے پر بحث کی گئی۔
اجلاس میں ڈی جی پاکستان اسپورٹس بورڈ کی جانب سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان ہاکی فیڈ ریشن کے مالی انتظام کے حوالے سے حکومت مطمئن نہیں ہے۔
فیڈریشن کی جانب سے اسپورٹس بورڈ کو اخراجات اور گرانٹس کے حوالے سے دی گئی تفصیلات کے ساتھ کوئی ثبوت موجود نہیں۔
انہوں نے فیڈ ریشن کی آڈٹ رپورٹ پر بھی سوالات اٹھائے۔ ڈی جی اسپورٹس بورڈ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ فیڈ ریشن کی سابقہ انتظامیہ کی بدانتظامی کی وجہ سے پاکستان کا عالمی سطح پر نام بدنام ہوا جس کے ازالے کے لیے حکومتی سطح پر مداخلت کرنا پڑی۔
مزید پڑھیے: وسائل، ویور شپ اور سٹارڈم کی کمی: دنیا کے 10 بڑے کھیلوں میں شامل ہاکی زوال کا شکار کیوں؟
انہوں نے کمیٹی کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سال 2023 میں اذلان شاہ ہاکی کپ کھیلنے کے لیے ملائیشیا جانے والی قومی ہاکی ٹیم کے ہوٹل بلز کی ادائیگی نہیں کی گئی جو کل 8 ہزار ڈالر کی رقم بنتی تھی۔ ایونٹ میں شریک ہونے والی پاکستان ہاکی ٹیم بلز کی ادائیگی کیے بغیر روانہ ہو گئی جس پر انتظامیہ نے پاکستان کے سفارتخانے سے رابطہ کیا۔پاکستانی سفیر نے حکومت کو آگاہ کیا اور حکومت نے بر وقت مداخلت کی اور پاکستان کو مزید بدنامی سے بچانے کے لیے بلز کی ادائیگی کو ممکن بنایا۔
اجلاس میں کمیٹی نے وزارت قانون کے حکام سے کہا کہ نگراں وزیراعظم کو ہاکی فیڈریشن کے صدر کی تعیناتی کا اختیار حاصل ہے یا نہیں 10 روز کے اندر قانونی آرا فراہم کی جائے، صوبے بجٹ کا دو فیصد اور سی ڈی اے ڈویلپمنٹ کا ایک فیصد بجٹ کھیلوں کے فروغ کے لیے مختص کریں جبکہ وزارت بین الصوبائی رابطہ نے ہاکی فیڈریشن سے 7 کروڑ روپے کے اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کرلیں ہیں۔
کنوینیئر شیخ آفتاب احمد کی صدارت میں قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں اراکین کمیٹی سیدہ شہلا رضا ،انجم عقیل خان اور وسیم قادر کے علاہ سیکریٹری وزارت بین الصوبائی رابطہ محی الدین وانی، ڈائریکٹر جنرل پاکستان سپورٹس بورڈ یاسر پیر زادہ ، پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی ،سیکریٹری رانا مجاہد اور وزارت کے قانونی ماہرین نے شرکت کی۔
ڈی جی یاسر پیر زادہ نے کہا کہ وزیراعظم بطور پیٹرن ان چیف صدر ہاکی فیڈریشن کو نامزد کرتا ہے، کیا نگراں وزیراعظم صدر ہاکی فیڈریشن نامزد کر سکتا ہے یا نہیں، یہی سوال ہے۔
سیکریٹری آئی پی سی محی الدین وانی نے کہا کہ حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق صدر ہاکی فیڈریشن کو منتخب کیاگیا، صدر ہاکی فیڈریشن کا 4 سال کا دور ہوتا ہے۔
وزارت قانون کے حکام نے کہا کہ جب تک سیٹ خالی نہیں ہوتی تب تک نیا صدر ہاکی فیڈریشن تعینات نہیں کیا جاسکتا، صدر ہاکی فیڈریشن کو وقت دیاجائے، وزیراعظم صدر ہاکی فیڈریشن نامزد کرتی ہیں جس کو چیلنج بھی کیاجاتاہے، ہاکی فیڈریشن کا معاملہ عدالت میں ہے تو ہمیں دستاویزات مہیا کیے جائیں، اگر دستاویزات دیں گے تو اپنی رائے دے سکیں گے، اگر صدر ہاکی فیڈریشن اپنا کام کررہے ہیں تو نیا صدر تو نہیں آسکتا۔
سیکریٹری آئی پی سی نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کی صدر ہاکی فیڈریشن کی تعیناتی میں کیا اہمیت ہے؟ سیدہ شہلا رضا نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے خصوصی اجازت لینی پڑتی جو نہیں لی گئی۔ انہوں نے ہاکی فیڈریشن کے آئین پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ذیلی کمیٹی نے وزارت قانون حکام کو صدر ہاکی فیڈریشن کی تعیناتی کے حوالے سے دستاویزات دینے کی ہدایت کردی اور کہا کہ وہ کمیٹی کو آئیندہ 10 روز کے دوران اپنی قانونی رائے سے آگاہ کریں گے۔
سیکریٹری آئی پی سی نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل دورہ ملائیشیا پر قومی ہاکی ٹیم گئی اور بغیر بل دیے واپس آگئی، حکومت نے کہا ہم بل اداکر دیتے ہیں کیونکہ یہ ملک کی عزت کی بات ہے، بہت مشکل سے پرو لیگ کے لیے حکومت سے پیسے لیے ہیں، آئندہ ایسے آسانی سے ہاکی فیڈریشن کو پیسے جاری نہیں کریں گے جب تک ہمیں مکمل پلان سے آگاہ نہیں کریں گے۔
یاسر پیر زادہ نے کہا کہ ہاکی فیڈریشن کہتی ہے ہمیں لوگوں کو کروڑوں روپے دینے ہیں۔
آڈٹ اکاؤنٹس کہتے ہیں کہ ہاکی فیڈریشن نے کسی کو پیسے نہیں دینے، ہاکی فیڈریشن پروپوزل دے گی، پی ایس بی منظور کریگی اور براہ راست پیسے دے گی اگر کھلاڑیوں کو براہ راست پیسے دینے ہیں تو ایک بار مسلہ حل کرلیں گے۔
رانا مجاہد نے کہا کہ مجھے بتادیا جائے کہ اسپورٹس بورڈ یا ہاکی فیڈریشن کے آئین پر چلوں؟ سیکریٹری آئی پی سی نے کہا کہ حکومت نے اگر پیسہ دیا تو حکومت کے قوانین کے مطابق چلیں۔
مزید پڑھیں: دو گروپوں کی مخاصمت، شہلا رضا پاکستان ہاکی فیڈریشن کی پہلی خاتون صدر منتخب
رانا مجاہد نے کہا کہ کھلاڑیوں کو پیسے دینے کے حوالے سے اسپورٹس بورڈ اور ہاکی فیڈریشن کے قوانین الگ ہیں، اگر غیرملکی کوچ لانا ہے تو ہاکی فیڈریشن نے اپنے حساب سے چلنا ہے۔
یاسر پیر زادہ نے کہا کہ ایونٹس کے لیے کھلاڑیوں کو 40 یا 50 ڈالر ہر دن کا دیا جاتاہے، ہمارا1100 ملین کا بجٹ کے جس میں سے 700 ملین تنخواہوں میں خرچ ہوتا ہے جبکہ باقی 400 ملین کھیلوں پر خرچ کرتے ہیں۔
رانا مجاہد نے کہا کہ ہاکی فیڈریشن 100 ڈالرز روز کا کھلاڑیوں کو دیتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان اسپورٹس بورڈ پاکستان ہاکی فیڈریشن قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ ملائیشیا میں عدم ادائیگی کا معاملہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان اسپورٹس بورڈ پاکستان ہاکی فیڈریشن قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ ملائیشیا میں عدم ادائیگی کا معاملہ بین الصوبائی رابطہ سیکریٹری آئی پی سی صدر ہاکی فیڈریشن پاکستان ہاکی فیڈ ہاکی فیڈریشن کے ہاکی فیڈریشن کو یاسر پیر زادہ اسپورٹس بورڈ کھلاڑیوں کو قومی اسمبلی کے حوالے سے کی تعیناتی رانا مجاہد فیڈریشن کی کی جانب سے نے کہا کہ فیڈ ریشن کمیٹی کو ہاکی ٹیم ریشن کی ریشن کے ریشن کو کے لیے کے صدر بلز کی
پڑھیں:
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
اسرائیلی نژاد امریکی صحافی اور محقق ڈاہلیا شائنڈلن نے 9 مئی 2026 کو برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی مثالی نوعیت پر زور دے رہے ہیں، اس سے مجھے خدشہ ہوتا ہے کہ شاید پسِ پردہ کشیدگی کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ایران کو لے کر امریکا اور اسرائیل کے اہداف بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ اہداف سفارت کاری کے ذریعے حاصل کیے جائیں یا فوجی کارروائیوں کے ذریعے، اس پر اختلافات سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی فوجی کارروائیوں سے روک پائیں گے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں کتنی کمی آ رہی ہے؟‘
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کلامیامریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کے حل میں جوں جوں تاخیر ہو رہی ہے، دونوں جانب اعصابی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ اس تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شامل اسرائیلی رویے میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کے بیچ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا
غزہ میں نہتے اور معصوم شہریوں کے قتلِ عام کے بعد اسرائیل اب لبنان میں بھی اسی نوعیت کی فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، جنہیں خطے میں قیامِ امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپ پہلے ہی اسرائیل کی فعال فوجی حمایت سے بڑی حد تک پیچھے ہٹ چکا ہے، جبکہ امریکا، جو اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ سمجھا جاتا ہے، اندرونی معاشی دباؤ اور بدلتی ہوئی عوامی رائے کے باعث اب زیادہ عرصے تک اسی سطح کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا۔
اس تاثر کو تقویت گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی مبیّنہ تلخ کلامی سے ملی۔ اس سے ایک روز قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کا مطلب تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں جنگ بندی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں ان کا مؤقف تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے خطے میں امن کے قیام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
بعد ازاں ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’پاگل‘ قرار دیا اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو امریکی سفارتی کوششوں کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے سخت لہجے میں پوچھا ’تم آخر کر کیا رہے ہو؟‘ جبکہ ایک ذریعے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی صدر نے کہا کہ ’اب سبھی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں‘۔
اس مبیّنہ تلخ کلامی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کو لاحق خطرات کے باعث دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو غیر معمولی حد تک تلخ رہی۔
اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے؟یہ کشیدگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کا خواہاں دکھائی دیتا ہے، جبکہ نیتن یاہو حکومت ایران، حزب اللہ اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی سابق سفارت کار اور مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر آرون ڈیوڈ ملر نے جنوری 2026 میں کارنیگی ادارۂ امنِ عالم میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں لکھا کہ ٹرمپ کو نیتن یاہو پر ایسا اثر و رسوخ حاصل ہے جو حالیہ برسوں میں کسی امریکی صدر کو حاصل نہیں رہا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قیادت کے لیے امریکی ترجیحات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔
کیا امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ پڑ رہی ہے؟راقم الحروف نے اس موضوع پر کئی سفارت کاروں سے گفتگو کی، جن کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر اسرائیلی لابی اب بھی بہت مضبوط ہے، اس لیے فوری طور پر ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو جائیں۔ تاہم امریکا میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی غیر معمولی ہے، جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے۔
ان کے مطابق ممکن ہے کہ مستقبل میں امریکا کے لیے اسرائیل کو وہی سطح کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کرنا زیادہ عرصے تک ممکن نہ رہے جو وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتا آ رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات محض 2 رہنماؤں کی ذاتی قربت پر قائم نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شراکت داری، اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور خطے میں مشترکہ تزویراتی مفادات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ماہرین اس واقعے کو تعلقات کے خاتمے کے بجائے پالیسی اختلافات کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:برازیلی صدر کی اسرائیل کو ہٹلر سے تشبیہ، غزہ پر جنگ نسل کشی قرار
ڈاہلیا شائنڈلن کے مطابق نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو مثالی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ خود اس بات کا اشارہ ہے کہ پسِ پردہ تناؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق غزہ، لبنان اور ایران کے معاملات پر اسرائیلی حکومت کی حکمتِ عملی نہ صرف بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ واشنگٹن میں بھی بے چینی پیدا کر رہی ہے۔
کیا اسرائیل امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟شاید یہی وہ سوال ہے جو آج امریکی خارجہ پالیسی کے حلقوں میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام سے لے کر کئی دہائیوں تک، بلکہ حالیہ برسوں تک، اسرائیل کو امریکا میں تقریباً غیر متنازع حمایت حاصل رہی۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں اسرائیل کی سلامتی کو امریکی قومی مفاد کا حصہ قرار دیتی رہی ہیں۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد یہ منظرنامہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
2024 اور 2025 کے دوران کولمبیا جامعہ، ہارورڈ جامعہ اور کیلیفورنیا جامعہ لاس اینجلس سمیت متعدد امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ہزاروں طلبہ نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ کئی مقامات پر پولیس مداخلت اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ ان واقعات نے فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کو پہلی مرتبہ امریکی داخلی سیاست کے ایک اہم موضوع میں تبدیل کر دیا۔
متعدد جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نوجوان امریکی ووٹرز، خصوصاً 35 سال سے کم عمر افراد، اسرائیلی پالیسیوں کے بارے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقیدی رویہ رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند حلقوں میں یہ مؤقف مضبوط ہو رہا ہے کہ اسرائیل کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت امریکا کے مفاد میں نہیں۔
جب راقم الحروف نے یہ سوال ایک پاکستانی نژاد امریکی صحافی کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ نوجوان امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی پالیسیوں کی ناقد بن چکی ہے، جبکہ 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد اب بھی عمومی طور پر اسرائیل کے زیادہ حامی دکھائی دیتے ہیں۔
اصل مسئلہ اسرائیل ہے یا نیتن یاہو؟یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بیشتر ماہرین کے مطابق مسئلہ اسرائیل کا وجود یا امریکا کے ساتھ اس کا اتحاد نہیں، بلکہ نیتن یاہو حکومت کی بعض پالیسیاں ہیں جو واشنگٹن کے لیے سیاسی اور سفارتی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں۔
امریکا میں اسرائیل کی سلامتی کی حمایت اب بھی مضبوط ہے، لیکن غزہ جنگ، لبنان میں کارروائیوں اور ایران کے خلاف سخت مؤقف کے باعث نیتن یاہو حکومت پر تنقید پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھل کر کی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی مبیّنہ سرزنش محض ایک ٹیلیفونک جھڑپ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے دو مختلف تزویراتی نقطۂ نظر کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ ایک جانب واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرکے سفارتی راستہ اپنانا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی حکومت ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر قائم ہے۔
اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ختم تو نہیں ہوں گے، تاہم ان کی نوعیت ضرور تبدیل ہو سکتی ہے، جہاں غیر مشروط حمایت کی جگہ زیادہ مشروط اور محتاط حمایت لے سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا۔ امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ سرزنش نیتن یاہو