سونا، تانبہ، چاندی اور دیگر قیمتی معدنی ذخائر کی تلاش اور نکاسی کے حوالے سے امریکا کی معروف کان کنی کمپنیوں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح وفد نے 7 سے 9 ستمبر تک پاکستان کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد ملک میں کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینا اور انفرااسٹرکچر کی ترقی میں تعاون کے مواقع تلاش کرنا تھا۔

امریکی وفد میں معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں شہرت یافتہ کمپنیاں یونائیٹڈ اسٹیٹس، اسٹریٹجک میٹلز اور موٹہ اینگل شامل تھیں۔ وفد نے وزیراعظم پاکستان، چیف آف آرمی اسٹاف، وزیر پٹرولیم اور وفاقی وزیر تجارت سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور انہیں پاکستان میں موجود وسیع معدنی وسائل—خصوصاً سونا، تانبہ اور نایاب زمینی عناصر  (Rare Earth Elements) سے متعلق بریفنگ دی۔

یہ دورہ امریکی سفارت خانے کے تعاون سے ممکن ہوا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعلقات کی عکاسی ہوتی ہے۔
کان کنی میں تعاون اور مستقبل کی راہیں
امریکی کمپنیوں نے پاکستان میں معدنیات کی ویلیو ایڈیشن، مقامی سطح پر پروسیسنگ کی صلاحیت بڑھانے، اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں سرمایہ کاری کے لیے گہری دلچسپی ظاہر کی۔ خاص طور پر کان کنی کے ساتھ منسلک لاجسٹکس اور دیگر سپورٹنگ سسٹمز پر بھی زور دیا گیا۔
اس دوران دونوں حکومتوں کے درمیان دو اہم مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر بھی دستخط ہوئے، جن کا تعلق نایاب زمینی عناصر اور لاجسٹک خدمات کی ترقی سے تھا۔
پاکستان کی عالمی سرمایہ کاروں کو دعوت
یہ دورہ نہ صرف پاکستان کی معدنی دولت کو عالمی سطح پر روشناس کرانے کا ایک بڑا موقع ثابت ہوا، بلکہ یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ پاکستان اب عالمی سرمایہ کاروں کے لیے کان کنی اور قدرتی وسائل کے شعبے میں ایک پرکشش منزل بنتا جا رہا ہے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کان کنی

پڑھیں:

انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران

ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔

ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم