ایپل نے بلڈ پریشر مانیٹرنگ سمیت جدید فیچرز سے لیس واچ الٹرا 3 متعارف کروا دی
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
ایپل نے اپنی سالانہ ایپل ایونٹ 2025 کے دوران نئی الٹرا واچ 3 کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی کمپنی نے اپنا نیا فلیگ شپ اسمارٹ فون آئی فون 17 اور دیگر مصنوعات بھی پیش کیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل واچ سیریز 10 متعارف، خاص بات کیا ہے؟
ایپل واچ الٹرا 3 کمپنی کی اب تک کی سب سے بڑی اسمارٹ واچ ہے جس میں جدید ترین اولیڈ ریٹینا ڈسپلے اور بہتر زاویے سے دیکھنے کی صلاحیت شامل ہے۔ نئی واچ کی بیٹری 42 گھنٹے تک چلتی ہے، جو کسی بھی ایپل واچ کی سب سے طویل بیٹری لائف ہے۔
نئی واچ میں ایپل کا جدید ترین S10 چپ سیٹ نصب ہے، جو سابقہ S9 چپ کے مقابلے میں زیادہ تیز اور مؤثر کارکردگی فراہم کرتا ہے۔
Specs – Apple Watch SE 3 ???? Apple Watch Series 11 ???? Apple Watch Ultra 3 pic.
— Apple Design (@TheAppleDesign) September 11, 2025
بلڈ پریشر مانیٹرنگایپل واچ الٹرا 3 میں پہلی بار ہائی بلڈ پریشر (ہائپرٹینشن) کی نگرانی کرنے والا فیچر بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ فیچر صارف کو بروقت الرٹ دیتا ہے اور صحت کے ممکنہ خطرات سے بچاؤ کے لیے مفید مشورے فراہم کرتا ہے۔
سیٹلائٹ کے ذریعے پیغام رسانیایپل واچ الٹرا 3 میں نیا سیٹلائٹ ٹیکسٹنگ فیچر بھی شامل ہے، جو دور دراز علاقوں میں جہاں موبائل نیٹ ورک دستیاب نہیں ہوتا، وہاں ہنگامی پیغامات بھیجنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل نے اپنے کچھ آلات کی لانچنگ مؤخر کردی
ایپل واچ الٹرا 3 کی قیمت 799 ڈالر مقرر کی گئی ہے، جبکہ یہ واچ 19 ستمبر 2025 سے صارفین کے لیے دستیاب ہوگی۔ فی الحال یہ واچ پری آرڈر کے لیے دستیاب ہے، جس کے ساتھ ایپل واچ سیریز 11 اور واچ SE ماڈلز بھی پیش کیے گئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آئی فون سیریز ایپل واچ الٹرا 3
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی فون سیریز ایپل کے لیے
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ