ملک میں موجودہ کیپسٹی چارجز کو صرف معجزہ ہی کم کر سکتا ہے. رکن نیپرا کا اظہارِ تشویش
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔19 ستمبر ۔2025 ) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک میں موجودہ صلاحیتی چارجز (اسٹینڈرڈ کاسٹ) پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں صرف کوئی معجزہ ہی ان میں کمی لا سکتا ہے رپورٹ کے مطابق یہ ریمارکس نیپرا کے رکن( ٹیکنیکل) رفیق احمد شیخ نے گیارہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی جانب سے یوز آف سسٹم چارجز کے تعین سے متعلق درخواستوں پر عوامی سماعت کے دوران دئیے.
(جاری ہے)
چیئرمین نیپرا وسیم مختار نے آن لائن سماعت کی جبکہ رکن قانون عامنہ احمد اور ممبر ڈویلپمنٹ مقصود انور خان بھی شریک تھے حکومت کی جانب سے 800 میگاواٹ بجلی کے نیلامی منصوبے اور کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کانٹریکٹ مارکیٹ کے مختلف ماڈلز پیش کئے گئے تاہم نیپرا نے اس پر شدید اعتراضات اٹھائے اور واضح کیا کہ اسٹینڈرڈ کاسٹ فریم ورک کی منظوری کے بغیر ماڈل پر عملدرآمد ممکن نہیں. ڈسکوز نے موقف اپنایا کہ موجودہ ٹیرف ڈھانچے میں صنعتی صارفین پہلے ہی دو حصوں پر مشتمل نظام کے تحت بل ادا کر رہے ہیں جس میں ایک فکسڈ اور دوسرا متغیر چارج شامل ہے تاہم نیپرا ممبران نے نشاندہی کی کہ صلاحیتی چارجز کی بلند شرح بجلی کے نرخوں میں اضافے کی بڑی وجہ ہے . سماعت کے دوران جب ایک سوال کیا گیا کہ یہ صلاحیتی چارجز کب ختم ہوں گے تو اس پر رفیق شیخ نے جواب دیا کہ یہ تبھی ممکن ہے جب وصولیوں کی شرح سو فیصد ہو جائے اور نقصانات مقررہ حد میں رہیں، جو فی الحال ناممکن ہے صرف کوئی معجزہ ہی یہ کر سکتا ہے کراچی چیمبر آف کامرس کے نمائندے تنویر بیری نے ڈسکوز کی درخواستوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بھاری سسٹم چارجز مقامی صنعتوں کی مسابقت کو متاثر کریں گے اور برآمدات کو نقصان پہنچے گا انہوں نے خبردار کیا کہ فکسڈ چارجز بعض صارفین پر غیر ضروری بوجھ ڈالیں گے اور اوپن ایکسس کے تصور کے منافی ہوں گے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز