ایف سی ایریا میں پانی و بجلی کی بندش پر شدید احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)ایف سی ایریا تھانے کی حدود لیاقت آباد سی پی ایل سی آفس کے سامنے مین شارع پر جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب پانی اور بجلی کی طویل بندش کے خلاف شہریوں نے شدید احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں ناظم آباد سے لیاقت آباد 10 نمبر جانے والی دونوں شاہراہیں آمد و رفت کے لیے بند ہو گئیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ علاقے میں کئی روز سے پانی اور بجلی کی فراہمی معطل ہے، جبکہ متعلقہ ادارے مسلسل بے حسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے اعلان کیا کہ جب تک پانی اور بجلی کی فراہمی بحال نہیں کی جاتی، احتجاج جاری رہے گا۔احتجاج کے باعث ناظم آباد، لیاقت آباد اور سائٹ ایریا کی مرکزی شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دفاتر سے گھروں کو جانے والے افراد، مسافر اور ایمبولینسز بھی ٹریفک میں پھنسی رہیں۔ اس مقام پر چند گھنٹے قبل بھی احتجاج کیا گیا تھا جس کے بعد پولیس کی یقین دہانی پر مظاہرین منتشر ہوگئے تھے تاہم وعدہ وفا نہ ہونے پر شہری دوبارہ سڑکوں پر نکل آئے۔ اور رات گئے احتجاج جاری رہا شہر ی اپنی گاڑیاں آڑی ترچھی کر کے ضیاء الدین اور دوسری جانب لیاقت آباد ڈاکخانہ کی جانب سے اپنے اپنے گھروں پر روانہ وہوئے تاہم ہیوی ٹریفک اور مال بردار ٹرالر رات گئے اپنی جگہ کھڑے رہے ۔ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے متبادل ٹریفک انتظامات کیے گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لیاقت ا باد بجلی کی
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔