حالیہ دنوں میں کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا، پرتگال اور فرانس سمیت کئی بڑے ممالک نے باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا ہے۔ اب دنیا کے 150 سے زائد ممالک فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر مانتے ہیں۔

’ یہ اسرائیل کے لیے جھٹکا ہے‘، ادیل شادید

ہیبرون کے قریب دورا کے محقق ادیل شادید کا کہنا ہے کہ برطانیہ کا فیصلہ ایک تاریخی اصلاح ہے کیونکہ برطانیہ نے ہی ایک صدی قبل بالفور ڈیکلریشن کے ذریعے اسرائیل کی بنیاد رکھی تھی۔

ادیل شادید

ان کے مطابق یہ فیصلے اسرائیل کی سیاسی اور اخلاقی تنہائی میں اضافہ کرتے ہیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ جب تک زمین اور عملی حقائق تبدیل نہیں ہوتے، صرف کاغذ پر ریاست کو تسلیم کرنا کافی نہیں ہوگا۔

’امریکا کا قدم سب سے اہم ہوگا‘، راعد السعید

ہیبرون کی مرکزی مارکیٹ میں کافی بیچنے والے راعد السعید کا کہنا ہے کہ صدر محمود عباس کی کوششوں سے یہ پیشرفت ممکن ہوئی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب امریکا فلسطین کو ریاست تسلیم کرے گا۔

راعد السعید

انہوں نے بتایا کہ عوام میں ملا جلا ردعمل پایا جاتا ہے: کچھ لوگ پرامید ہیں جبکہ کچھ کو خدشہ ہے کہ اسرائیل انتقامی کارروائیوں میں شدت لا سکتا ہے۔

’فائدے بھی ہیں، خطرات بھی‘، مرام نصر

بین الاقوامی قانون کی ماہر مرام نصر نے کہا کہ یہ فیصلے فلسطین کی سیاسی و سفارتی حیثیت کو مضبوط کرتے ہیں، نئی ایمبیسیوں کے قیام اور عالمی سطح پر حمایت بڑھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

ان کے مطابق یہ معاشی میدان میں بھی فائدہ دے سکتے ہیں، کیونکہ اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ اور فلسطینی عوام کی براہِ راست مدد کے راستے کھل سکتے ہیں۔

مرام نصر

تاہم وہ خدشہ ظاہر کرتی ہیں کہ اسرائیل ان فیصلوں کے ردعمل میں مزید زمینیں ہتھیانے اور فلسطینی ریاست کو غیر مؤثر بنانے کی کوششیں تیز کر سکتا ہے۔

فلسطینی عوام ان فیصلوں کو ایک بڑی کامیابی مانتے ہیں لیکن ساتھ ہی انہیں خدشہ ہے کہ اسرائیل اس کے جواب میں مزید سخت اقدامات کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:فلسطینی ریاست کا قیام ایک حق ہے، انعام نہیں، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کا جنرل اسمبلی میں خطاب

ایک طرف یہ پیشرفت فلسطینی جدوجہد کے لیے ایک روشن باب ہو سکتی ہے، مگر دوسری طرف اس کے نتائج مزید مشکلات بھی لا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل اقوام متحدہ امریکا فلسطین فلسطینی ریاست.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل اقوام متحدہ امریکا فلسطین فلسطینی ریاست فلسطینی ریاست کہ اسرائیل ریاست کو

پڑھیں:

جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے

کوئٹہ(نیوز ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مرکزی رہنما حافظ حمداللہ سے کئی گھنٹوں تک رابطہ نہ ہونے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں اور پارٹی کارکنوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

تفصیلات کے مطابق حافظ حمداللہ کے صاحبزادے حافظ خلیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد کا موبائل فون بند آ رہا ہے اور ان کے ساتھ موجود ساتھیوں سے بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔

انہوں نے کہا کہ حافظ حمداللہ آج بلوچستان کے علاقے سنجاوی میں ایک پروگرام میں شرکت کیلئے گئے تھے، تاہم چند گھنٹوں سے ان سے کوئی رابطہ قائم نہیں ہو سکا جس کے باعث اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں میں تشویش پیدا ہوئی۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر زیارت سے رابطہ کیا۔

پارٹی ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر زیارت نے مولانا عبدالغفور حیدری کو آگاہ کیا کہ حافظ حمداللہ محفوظ مقام پر موجود ہیں اور ان کی خیریت سے متعلق کوئی تشویش کی بات نہیں۔

واقعے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد جے یو آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے حافظ حمداللہ کی جلد از جلد عوامی سطح پر موجودگی اور رابطے کی بحالی کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔

پارٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی تھیں، تاہم انتظامیہ کے بیان کے بعد صورتحال کسی حد تک واضح ہو گئی ہے۔

مزید تفصیلات اور سرکاری وضاحت سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں۔بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا

متعلقہ مضامین

  • جھانوی کپور کی وائرل ویڈیو، پروموشنل ایونٹ میں خوفزدہ ردعمل
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید