ریاض(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 ستمبر ۔2025 )سعودی عرب نے کہا ہے کہ فرانس اور امن کی حامی تمام ریاستوں کے ساتھ شراکت جاری رکھی جائے گی تاکہ مسلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے اتحاد کے نتائج پر عمل درآمد کی نگرانی کی جا سکے، غزہ کی جنگ کا خاتمہ ہو سکے، فلسطینی خود مختاری کو خطرے میں ڈالنے والے تمام یک طرفہ اقدامات روکے جا سکیں، خطے میں تنازع کا خاتمہ ہو سکے اور 1967 کی سرحدوں پر مشرقی بیت المقدس کو دار الحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام یقینی بنایا جا سکے.

(جاری ہے)

سعودی عرب نشریاتی ادارے کے مطابق ریاض نے ان ممالک کے موقف کو سراہا ہے جنہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے یا اس کے اعتراف کے عزم کا اعلان کیا ہے سعودی عرب نے باقی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بھی تاریخی قدم اٹھائیں، جس کا گہرا اثر دو ریاستی حل پر عمل درآمد، خطے میں پائے دار اور جامع امن کے قیام اور ایک ایسا نیا ماحول پیدا کرنے میں ہو گا جس میں خطہ امن، استحکام اور خوش حالی سے لطف اندوز ہو سکے.

نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران منعقد ہونے والے فلسطین مسئلے کے پر امن حل اور دو ریاستی حل پر عمل درآمد کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنس کے آغاز پرسعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے اپنے خطاب کیا. کانفرنس کی صدارت سعودی عرب اور فرانس نے مشترکہ طور پر کی اور جس میں دنیا کے درجنوں راہنماﺅں نے شرکت کی سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ کانفرنس امن کے قیام کی جانب ایک تاریخی موقع ہے اور اس بات کی تصدیق ہے کہ عالمی برادری دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے پر عزم ہے انہوںنے کہا کہ یہ کانفرنس ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اسرائیلی قابض حکام اپنے جارحانہ رویے پر قائم ہیں اور غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اپنے وحشیانہ جرائم جاری رکھے ہوئے ہیں اسرائیل کی خلاف ورزیاں مغربی کنارے اور بیت المقدس میں بھی جاری ہیں اور عرب و اسلامی ممالک کی خود مختاری پر اس کے بار بار حملے، جن میں تازہ ترین قطر پر ہونے والا جارحانہ حملہ شامل ہے، اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ اسرائیل اپنی جارحانہ پالیسیوں پر ڈٹا ہوا ہے جو علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور خطے میں امن کی کوششوں کو کمزور کرتے ہیں اس صورت حال نے سعودی عرب کے اس پختہ یقین کو مزید مضبوط کیا ہے کہ خطے میں منصفانہ اور پائے دار امن کے قیام کا واحد راستہ دو ریاستی حل ہے.

کانفرنس کے دوران فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اپنے افتتاحی خطاب میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا فرانس بھی برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، پرتگال اور دیگر ممالک کی صف میں شامل ہو گیا جنہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے فرانسیسی صدر کے اس تاریخی موقف کو سراہا اوراقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں”اعلانِ نیویارک“ کو منظوری دینے پر وسیع عالمی حمایت پر بھی زور دیا .

سعودی عرب کے مطابق”اعلانِ نیویارک“ کے حق میں ووٹ دینا اس بات کی عکاسی ہے کہ عالمی برادری فلسطینی عوام کو انصاف دینے، ان کے تاریخی اور قانونی حق کو تسلیم کرنے اور بین الاقوامی قراردادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق ان کے حق کو مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے فلسطینی ریاست کو تسلیم کو تسلیم کرنے دو ریاستی حل کیا ہے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت