امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے خطاب میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی سمیت دنیا کی 7 بڑی جنگیں رکوائیں، جن میں بعض 3 دہائیوں سے جاری تھیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ متعلقہ ممالک کے قائدین سے براہِ راست بات کرکے کیا گیا، اس میں اقوام متحدہ کا کوئی کردار نہیں تھا۔ صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر کا آغاز اس یاد دہانی سے کیا کہ وہ 6 سال بعد جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں۔

انہوں نے سابق صدر جو بائیڈن اور ڈیموکریٹک حکومت کو عالمی بحرانوں کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ ان کی انتظامیہ نے صرف 8 ماہ میں امریکا کی معیشت کو استحکام دیا، مہنگائی کم کی اور سرحدوں کو محفوظ بنایا۔

انہوں نے اقوام متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سوچتا ہوں اقوام متحدہ کو بنانے کا مقصد کیا تھا؟ جنگ بندی کے موقع پر اقوام متحدہ کہاں تھی؟ ایک فون کال تک نہیں آئی۔ اقوام متحدہ اپنی صلاحیت کے مطابق کردار ادا نہیں کر رہا اور ادارے میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

غزہ پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جاری جنگ نے 65 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی جان لی ہے اور دنیا بھر میں غم و غصہ پھیلایا ہے۔ انہوں نے فوری جنگ بندی اور امن مذاکرات پر زور دیا۔

صدر ٹرمپ نے یرغمالیوں کے معاملے کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ 20 یرغمالیوں کو زندہ اور 38 کی لاشوں کو واپس لانا ترجیح ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حماس نے امن کے مواقع ضائع کیے، جبکہ مغربی ممالک کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے کا فیصلہ حماس کے لیے انعام کے مترادف ہے۔

ٹرمپ کے مطابق اگر وہ پہلے ہی صدر ہوتے تو غزہ، اسرائیل اور روس، یوکرین جنگیں کبھی شروع نہ ہوتیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے ایران کے ایٹمی اثاثوں کو نشانہ بنایا اور تہران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت کبھی نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے روس کو تنبیہ کی کہ اگر معاہدے پر عمل نہ کیا گیا تو محصولات عائد کیے جائیں گے اور یورپی ممالک کو روسی توانائی کی خریداری فوری روکنی چاہیے۔

غیر قانونی امیگریشن کو عالمی خطرہ قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف امریکا ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی تباہ کن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا منشیات لانے والے گروہوں کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنرل اسمبلی اقوام متحدہ انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت