ایف آئی اے میں جامع اصلاحات اور تنظیمِ نو کا کام تیزی سے جاری ہے: ترجمان ایف آئی اے
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
---فائل فوٹو
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایجنسی میں جامع اصلاحات اور تنظیمِ نو کا کام تیزی سے جاری ہے جس کے تحت اس کے آپریشنل ڈھانچے کو 3 ریجن میں تقسیم کر دیا گیا۔
ایف آئی اے ترجمان کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں نارتھ، سینٹرل اور ساؤتھ ریجن بنا دیے گئے ہیں، اس سے قبل ایف آئی اے میں نارتھ اور ساؤتھ ریجن قائم تھے۔
اب نئے نارتھ ریجن میں اسلام آباد، گلگت بلتستان، پشاور اور کوہاٹ زون شامل ہوں گے، سینٹرل ریجن میں لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ملتان زون شامل ہوں گے جبکہ ساؤتھ ریجن میں کراچی، حیدرآباد، سکھر اور بلوچستان زون شامل ہوں گے۔
اسی طرح ایف آئی اے میں 2 نئے زونز بھی قائم کیے گئے ہیں جو گلگت بلتستان زون اور سکھر زون کے نام سے قائم کیے گئے ہیں۔ گلگت بلتستان زون کا زونل آفس گلگت میں قائم کیا جائے گا، اس سے قبل گلگت اور اسکردو سرکلز اسلام آباد زون میں شامل تھے، سکھر زون کا زونل آفس سکھر میں قائم کیا جائے گا۔
ایف آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آپریشنل ڈھانچے میں اصلاحات کا مقصد کارکردگی اور پبلک سروس مزید مؤثر بنانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایف آئی اے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔