معروف امریکی گلوکارہ ریحانہ کے ہاں بیٹی کی پیدائش
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
عالمی شہرت یافتہ باربیڈین گلوکارہ اور بزنس وومن ریحانہ اور معروف امریکی ریپر اے ایس اے پی راکی کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق 37 سالہ ریحانہ نے یہ خوشخبری فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اپنے مداحوں کے ساتھ شیئر کی، جہاں انہوں نے نومولود کیساتھ اپنی تصویر بھی شیئر کی۔
تصویر میں ریحانہ کو اپنی بیٹی کو گلابی لباس میں لپیٹے بازوؤں میں تھامے دیکھا جا سکتا ہے۔ پوسٹ کے کیپشن میں ریحانہ نے بیٹی کا نام اور پیدائش کی تاریخ بتاتے ہوئے لکھا: ’’راکی آئرش میئرز، 12 ستمبر 2025۔‘‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ بیٹی کی پیدائش سے ایک دن قبل اے ایس اے پی راکی نے ایک فیشن میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اس بار بھی بیٹی کے والد بننا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا، ’میں دعا کرتا ہوں کہ یہ لڑکی ہو۔ پہلے بچے کے وقت ہم نے جنس معلوم کی تھی، لیکن دوسری اور تیسری بار ہم نے ایسا نہیں کیا، مگر میرا دل کہہ رہا ہے کہ یہ لڑکی ہوگی۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل ریحانہ اور راکی دو بیٹوں کے والدین تھے اور اب اس ننھی پری کی آمد سے ان کے خاندان کی خوشیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔