Al Qamar Online:
2026-07-24@04:07:59 GMT

افغان لڑکا کابل سے لینڈنگ گیئر میں چھپ کردہلی پہنچ گیا

اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT

افغان لڑکا کابل سے لینڈنگ گیئر میں چھپ کردہلی پہنچ گیا

نئی دہلی: دہلی ہوائی اڈے پر گزشتہ روزایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا جب ایک 13 سالہ لڑکا کابل سے دہلی جانے والی کام ایئر کی پرواز کے لینڈنگ گیئر کے ڈبے میں چھپا ہوا پایا گیا۔ جب KAM ایئر لائنز کی پرواز (RQ-4401) دہلی ائرپورٹ پر اتری تو ائر لائن کے سکیورٹی اہلکاروں نے طیارے کے قریب ایک بچے کو گھومتے ہوئے دیکھا۔ پوچھ گچھ پر سکیورٹی اہلکاروں پر انکشاف ہوا کہ لڑکا افغانستان کے شہر قندوز کا رہنے والا ہے اور بغیر ٹکٹ کے لینڈنگ گیئر کے ڈبے میں چھپ کر آیا تھا۔

حکام کے مطابق لڑکا چونکہ نابالغ ہے اس لیے اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔واقعے کے بعد بچے کو فوری طور پر پوچھ گچھ کے لیے متعلقہ اداروں کے پاس لایا گیا۔ تمام طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد، اسے اسی دوپہر KAM ایئر لائنز کی واپسی پرواز (RQ-4402) پر واپس کابل بھیج دیا گیا۔ KAM ایئر کی پرواز نمبر RQ4401 نے کابل سے دہلی کا سفر 94 منٹ میں کیا۔ اس دوران ایک افغان نوجوان طیارے کے پچھلے پہیے کے اوپر ایک تنگ ڈبے میں چھپ گیا۔

یہ پرواز کابل سے صبح 8:46 بجے IST پر روانہ ہوئی اور 10:20 بجے دہلی کے ٹرمینل 3 پر اتری۔سکیورٹی اداروں کی جانب سے پوچھ گچھ کے دوران بچے نے انکشاف کیا کہ وہ کابل ائرپورٹ پر مسافروں کے پیچھے گاڑی چلا کر رن وے تک پہنچا تھا۔ اس نے طیارے میں سوار ہونے کے موقع کا فائدہ اٹھایا اور ٹیک آف سے ٹھیک پہلے پہیے میں چھپ گیا۔ہوا بازی کے ماہر کیپٹن موہن رنگناتھن کے مطابق، ہوائی جہاز کے وہیل ایل میں سفر کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ جیسے ہی کوئی جہاز ٹیک آف کرتا ہے، آکسیجن کی سطح تیزی سے کم ہو جاتی ہے اور درجہ حرارت انجماد سے کافی نیچے گر جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پہیوں کے درمیان پھنس جانے والا شخص پہیوں سے کچل کر مر بھی سکتا ہے۔ ٹیک آف کے بعد، جب پہیے پیچھے ہٹتے ہیں، تو جگہ مکمل طور پر بند ہو جاتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ مسافر اندر کسی کونے میں پھنس جانے سے کچھ دیر کے لیے بچ گیا ہو۔

TagsImportant News from Al Qamar.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: کابل سے میں چھپ

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا