data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر )افغان قونصل جنرل سید عبدالجبار تخاری نے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان اور پاکستان دونوں ملکوں کے حق میں بہتر نہیں ہے۔ہم نے بارہا کہا ہے کہ جنگ وجدل کے بجائے سیاسی رہنما اورعلما کرام مل بیٹھ کر اس کاحل نکالیں۔ٹرمپ سمجھتا ہے کہ پوری دنیا کی طرح وہ طالبان کو بھی ڈرائے دھمکائے گا،ان کے پاس دنیا کا جدید ترین اسلحہ وگولہ بارود اور ہمارے پاس صرف اسلام و ایمان کی دولت ہے۔ اگر ان کی اتنی جرأت ہوتی تو نیٹو کے لائولشکرکے ساتھ اپنا سامان چھوڑ کر نہ بھاگتے۔امریکا ایک سازش کے تحت اپنا اسلحہ و گولہ بارود چھوڑ کر گیاتا کہ یہ لوگ آپس میں لڑیں مگر امیر المومنین کے عام معافی کے اعلان کے بعد سب نے اسلحہ جمع کرادیا اوران کی یہ سازش بھی ناکام ہوگئی۔امریکا 20سال یہاں رہا مگرفلاح وبہبود کا کچھ کام نہیں کیابلکہ ا س کا لیا گیاقرض ہم اتار رہے ہیں۔ آج افغانستان میں امن اور ترقی کی طرف گامزن ہے۔بجلی ،نہر،  روڈراستوں ریلوے سمیت دیگر ترقیاتی کام جاری ہیں ان کے ثمرات آئندہ چندسال میں مزیدنمایاں ہوں گے۔یہ بات انہوں نے افغان قونصلیٹ کراچی میں ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدراسداللہ بھٹو کی زیرقیادت ملاقات کرنے والے وفد سے بات چیت کے دوران کہی۔ وفدمیںکونسل کے دیگرعہدیداران علامہ قاضی احمدنورانی، مسلم پرویز،محمد حسین محنتی،علامہ عقیل انجم قادری،مولانا عبدالقدوس احمدانی اوررمجاہدچنا شامل تھے۔رہنمائوں نے حالیہ زلزلے میں قیمتی انسانی جانوں واملاک کے نقصان پراظہارافسوس اورمرحومین کی درجات بلندی کے لیے دعائے مغفرت بھی کی۔ملی یکجہتی کونسل کے وفدنے سرحدپاردہشت گردی کے الزامات پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے دونوں ممالک کی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ بات چیت کیذریعے اپنے معاملات حل کریں۔پاک،افغان بہترتعلقات سے نہ صرف دونوں ملک خطے میں مزید طاقتوربلکہ ایک دوسرے کا دفاع کرنے والے بھی بن سکتے ہیں۔ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر و سابق ایم این اے سد اللہ بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی ترقی اورامن ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے امریکی صدرٹرمپ کابگرام ائر بیس امریکا کے حوالے کرنے کا مطالبہ اورایسا نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکی قابل مذمت اور اس کے مذموم عزائم کا ایک اظہار ہے۔بگرام ائر بیس امریکا کو دینے سے انکار کرنے کے افغان حکومت کا جرائتمندانہ فیصلہ قابل قدرہے اس فیصلے سے پاکستان سمیت پوری دنیا میں افغان حکومت کی نیک نامی ہورہی ہے ۔ثابت ہوا کہ مزاحمت میں ہی زندگی اورغلامی موت ہے۔افغان قونصل جنرل کا مزید کہنا تھا کہ امت مسلمہ کے پاس سب کچھ ہے مگرہماری بدقسمتی یہ ہے کہ مسلمانوں کے پاس قیادت کی کمی ہے۔ قرآن وسنت کو اپنا دستور عمل بنایا جائے تو کامیابی ان کے قدم چومی گے۔امارات اسلامی افغانستان نے خواتین کو جتنا حق دیا وہ دنیا میں کسی نے بھی نہیں دیا ۔ ہم عورت کو اشتہارات کی زینت نہیں بناتے کوئی بھی غیرتمند باپ بھائی شوہر یہ نہیں چاہے گا۔ پرائیویٹ و مدارس میں تعلیم کاسلسلہ جاری ہے۔ افغانستان میں حالیہ زلزلے کے نتیجے میںڈھائی ہزارلوگ شہید،ساڑھے4ہزارزخمی اورلاکھوں لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہوگئے۔پاکستان سمیت امدادکرنے والے ممالک اوراداروںکے مشکور ہیں۔

 

 

اسٹاف رپورٹر گوہر ایوب.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ملی یکجہتی کونسل

پڑھیں:

خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار

اسحاق ڈار---فائل فوٹو

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔

پاکستان خطے کی بڑی طاقت اور یورپی یونین کا شراکت دار ہے: کایا کالاس

یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔

نائب وزیرِ اعظم  نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار