امریکا کا ٹونی بلیئر کی سربراہی میں غزہ کا عبوری انتظامی ادارہ قائم کرنیکا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
عرب ممالک کا کہنا ہے کہ وہ صرف اسی صورت امن فورس میں حصہ ڈالیں گے، جب فلسطینی ریاست کے قیام کا واضح اور ناقابل واپسی روڈمیپ دیا جائے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ ٹونی بلیئر کا منصوبہ فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ نہیں کھولتا بلکہ اسرائیل کے لیے نرم قبضے کا ایک نیا ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا غزہ میں حکومت کی تبدیلی اور نئی انتظامیہ کے قیام سے متعلق ایک نیا اور حیران منصوبہ سامنے لایا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اس منصوبے کی سربراہی برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے سپرد کر رہا ہے۔ جسے غزہ انٹرنیشنل ٹرانزیشنل اتھارٹی (جیٹا) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ادارہ پانچ سال تک غزہ کی اعلیٰ سیاسی اور قانونی اتھارٹی کے طور پر کام کرے گا اور فلسطین اتھارٹی کا نعم البدل بھی ہوسکتا ہے، جبکہ اس میں حماس کا بھی کوئی کردار نہیں ہوگا۔ برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق یہ ماڈل تیمور لیستے اور کوسوو جیسے خطوں میں بننے والی عبوری حکومتوں سے متاثر ہے۔ ابتدائی طور پر جیٹا کا ہیڈکوارٹر مصر کے شہر العریش میں ہوگا، بعد ازاں یہ اقوام متحدہ کی منظوری اور ایک کثیر القومی امن فورس کے ہمراہ غزہ میں داخل ہوگی۔
جیٹا کا انتظامی ڈھانچہ
جیٹا کا بورڈ سات سے دس ارکان پر مشتمل ہوگا، جن میں ایک فلسطینی نمائندہ، ایک اعلیٰ اقوام متحدہ کا افسر اور نمایاں مسلم شخصیات شامل ہوں گی۔ ایگزیکٹو سیکریٹریٹ میں 25 ارکان ہوں گے، جن میں پانچ کمشنرز کلیدی شعبوں جیسے انسانی امور، تعمیر نو، قانون سازی، سکیورٹی اور فلسطینی اتھارٹی (پی اے) سے روابط سنبھالیں گے۔ ایک خصوصی "پراپرٹی رائٹس یونٹ" قائم ہوگا، تاکہ فلسطینیوں کی جائیداد کے حقوق محفوظ رہیں اور نقل مکانی کی صورت میں واپسی یقینی ہو/ جیٹا کسی فلسطینیوں کو غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کرے گا۔
سیاسی ردعمل
اگرچہ امریکا اس تجویز کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور اقوام متحدہ کے نیویارک ڈیکلریشن کے درمیان ایک "سمجھوتہ" قرار دے رہا ہے، مگر اس نے خطے میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ عرب ممالک کا کہنا ہے کہ وہ صرف اسی صورت امن فورس میں حصہ ڈالیں گے، جب فلسطینی ریاست کے قیام کا واضح اور ناقابل واپسی روڈمیپ دیا جائے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ ٹونی بلیئر کا منصوبہ فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ نہیں کھولتا بلکہ اسرائیل کے لیے نرم قبضے کا ایک نیا ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔
تنازع اور تحفظات
ٹونی بلیئر ماضی میں بھی خطے کے لیے مشرق وسطیٰ کے ایلچی رہ چکے ہیں، لیکن ان کی شخصیت متنازع سمجھی جاتی ہے۔ عراق جنگ کی حمایت اور فلسطینی ریاست کے قیام میں مبینہ رکاوٹ کے باعث کئی فلسطینی اور عرب رہنما ان پر اعتماد نہیں کرتے۔ دوسری جانب، بعض مغربی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ ابھی یہ منصوبہ ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کی مدت پانچ سال سے کم ہو کر دو سال تک بھی ہوسکتی ہے۔ اس کے نفاذ کو جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی سے مشروط کیا جا رہا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کا موقف
فلسطینی صدر محمود عباس نے جنرل اسمبلی سے ویڈیو لنک خطاب میں کہا کہ حماس کو جنگ کے بعد غزہ کے نظم و نسق میں کوئی کردار نہیں دیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ غزہ ریاستِ فلسطین کا لازمی حصہ ہے اور ہم وہاں حکومت اور سکیورٹی کی مکمل ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ امریکا نے جنرل اسمبلی اجلاس سے قبل محمود عباس کا ویزا منسوخ کر دیا تھا، جس کے باعث وہ نیویارک میں موجود نہیں تھے۔
ٹرمپ کا بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں عرب اور مسلم رہنماؤں سے ملاقات کے بعد کہا کہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ ناقابل قبول ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست کے قیام ٹونی بلیئر کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔
تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب