کوٹری بیراج میں درمیانے درجے کا سیلاب برقرار، گڈو اور سکھر بیراج میں پانی کی سطح معمول پر آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
کوٹری بیراج میں ہفتے کے روز درمیانے درجے کے سیلاب کی بلند ترین سطح گزرنے کے باوجود اتوار کی شام تک درمیانے درجے کا سیلاب برقرار رہا۔
ہفتہ کی صبح کوٹری میں اپ اسٹریم 4 لاکھ 21 ہزار 75 اور ڈاؤن اسٹریم 3 لاکھ 93 ہزار 560 کیوسک ریکارڈ کیا گیا جو دوپہر تک کم ہو کر بالترتیب 4 لاکھ 12 ہزار 965 اور 3 لاکھ 86 ہزار 650 کیوسک رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں حالیہ سیلاب سے کتنے اسکولز تباہ ہوئے؟
اتوار کو اپ اسٹریم 3 لاکھ 87 ہزار 808 اور ڈاؤن اسٹریم 3 لاکھ 62 ہزار 253 کیوسک ریکارڈ کیا گیا جبکہ 4 نہروں کے لیے 25 ہزار 555 کیوسک پانی چھوڑا گیا۔ دوسری جانب گڈو اور سکھر بیراج پر سیلابی ریلا گزر چکا ہے اور پانی کی سطح معمول پر آ گئی ہے۔
دوسری طرف نصری بند، لکھت بند، مڈ بنگلی بند اور امری پل کے قریب دریائے سندھ میں دباؤ برقرار رہا جس کے باعث ریسکیو کارروائیاں تیز کر دی گئیں۔ ریسکیو 1122 شہید بے نظیر آباد نے علی خان ماری گاؤں سے درجنوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا اور مویشیوں و سامان کی نقل و حمل میں بھی مدد فراہم کی۔
حکام نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محتاط رہیں اور ریسکیو ٹیموں سے تعاون کریں۔
یہ بھی پڑھیے: ’وفاقی حکومت جواب دے‘، بلاول بھٹو کا ایک بار پھر بینظیر انکم سپورٹ کے تحت سیلاب زدگان کی مدد پر زور
پنجاب حکومت نے ستلج کے ٹوٹے ہوئے بندوں کی مرمت کے لیے 4 اکتوبر کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے تاکہ مزید سیلابی خطرات پر قابو پایا جا سکے۔ انتہائی بلند سطح کے پانی کے دباؤ کے باعث 15 روز قبل ستلج کے نوراجا بھٹہ بند ٹوٹنے سے ملتان، بہاولپور اور لودھراں کے 200 سے زائد دیہات زیرِ آب آ گئے۔
ان شگافوں سے آنے والا پانی ملتان۔سکھر موٹروے ایم 5 تک پہنچ گیا اور بہاولپور کے جھانگرا سے جلالپور پیر والا تک کئی مقامات پر موٹروے کو توڑتے ہوئے 20 سے 25 کلومیٹر طویل جھیل نما علاقہ بنا دیا۔ موٹروے کو پچھلے 15 دنوں سے اوچ شریف انٹرچینج سے جلالپور پیر والا تک بند رکھا گیا ہے جس سے جنوبی اور وسطی پنجاب کے درمیان آمد و رفت معطل ہے، سپلائی چین متاثر ہو چکی ہے اور ہزاروں گاڑیاں پھنس کر متبادل اور خطرناک راستوں پر جانے پر مجبور ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: چین کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان پاکستان پہنچ گیا
جلالپور پیر والا کے مشرقی علاقوں میں صورتحال اب بھی نہایت سنگین ہے جہاں نوراجا بھٹہ، بستی لنگ، کوٹلہ چکر، بہادرپور، موزہ کانو، کندیر، جھائیو، دیپل، طروط بشارت، ڈیلی راجن پور، بیلے والا، دنیاپور، جھانگرا، مرادپور سوئیوالا اور سابرا جیسے دیہات 8 سے 10 فٹ پانی میں گھرے ہوئے ہیں اور مکانات و املاک کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دریا سکھر سیلاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دریا سکھر سیلاب کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔