کراچی، ملیر سکھن میں پولیس مقابلہ، پولیس اہلکار کی شہادت میں ملوث ملزم ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
کراچی:
کراچی کے علاقے ملیر سکھن میں پولیس اور ملزمان کے درمیان مبینہ مقابلے کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک مطلوب ملزم ہلاک ہو گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا ملزم اس واقعے میں ملوث تھا جس میں پولیس اہلکار قیصر کو ڈاکوؤں نے شہید کر دیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے چند روز قبل بھینس کالونی کے علاقے میں ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر پولیس کانسٹیبل قیصر کو فائرنگ کر کے شہید کیا تھا، واقعے کے بعد پولیس نے ملزم کی تلاش تیز کر دی تھی۔
پولیس کے مطابق مبینہ مقابلے میں ہلاک ملزم کے دو ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جن کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ملزم کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر شواہد برآمد کر لیے گئے ہیں، جنہیں فرانزک کے لیے بھیج دیا گیا ہے تاکہ شہید اہلکار پر فائرنگ سے متعلق مزید شواہد حاصل کیے جا سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔