اسلام آباد:

آئی ایم ایف کو سیلاب کی وجہ سے رواں مالی سال کی معاشی نمو اور محصولات کی وصولی پر کوئی بڑا نقصان نظر نہیں آرہا ہے۔ 

پنجاب کے علاوہ صوبوں نے بھی کسی بڑے معاشی نقصان کی نشاندہی نہیں کی ہے اس صورت حال سے معاشی اہداف میں کمی آنے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔

پاکستانی حکام نے تین دریاؤں میں آنے والے سیلاب سے ہونے والے معاشی نقصانات کو ٹیبل کیا ہے لیکن مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہونے والے انفرااسٹرکچر بالخصوص پنجاب میں نقصانات کا تخمینہ لگانا ابھی بھی جاری ہے۔

حکومتی ذرائع نے کہا ہے آئی ایم ایف کے وفد نے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے ملاقات کے دوران سیلاب کے معاشی اثرات کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں نے ایک مقامی ہوٹل میں الگ الگ ملاقاتوں کے دوران آئی ایم ایف ٹیم کے ساتھ معاشی نقصانات کے اپنے ابتدائی تخمینے شیئر کیے۔

ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ  کے دوران آئی ایم ایف ٹیم نے مشاہدہ کیا کہ ابتدائی ان پٹ کی بنیاد پر کوئی خاص معاشی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم آئی ایم ایف نے کہا کہ وہ نقصان کی تشخیص کی رپورٹ کا انتظار کرے گا۔ 

آئی ایم ایف نے بھی ٹیکس محصولات پر سیلاب کا کوئی اثر نہیں دیکھا ہے۔ سیلاب کے اثرات کے بارے میں آئی ایم ایف کے مشاہدات وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر سے جائزہ اجلاسوں کے دوران سیلاب کے اثرات پر غور کرنے کی درخواست کے بعد سامنے آئے۔

ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ حکومت سیلاب سے متعلق اخراجات کو ہنگامی پول سے پورا کر سکتی ہے اور ہوسکتا ہے اسے اضافی وسائل کی ضرورت نہ پڑے۔  

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جائزہ مذاکرات 25 ستمبر کو شروع ہوئے اور 8 اکتوبر تک جاری رہیں گے۔ ان مذاکرات کا کامیاب اختتام دو قسطوں کے اجراء کی راہ ہموار کرے گا۔

یہ قسطیں دو مختلف قرضوں کے پروگراموں کے تحت مجموعی طور پر 1.

2بلین ڈالر سے زیادہ ہیں۔ ذرائع  نے بتایا کہ پاکستان کا اندرونی اندازہ یہ بھی تھا کہ معاشی ترقی پر سیلاب کا کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔

ذرائع نے مزید کہا کہ حکومت نے 4.2 فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کیا ہے اور اسے اب بھی 3.7 فیصد سے 4 فیصد تک حاصل کرنے کی توقع ہے۔

پلاننگ کمیشن کے مطابق کل معاشی نقصانات کا تخمینہ تقریباً 360 ارب روپے یا معیشت کے حجم کا 0.3 فیصد ہے اور جی ڈی پی کی شرح نمو اب بھی 4 فیصد کے لگ بھگ رہ سکتی ہے۔

فصلوں کے بڑے نقصان کا تخمینہ نہ لگانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ چاول اور گنے کی بوائی ابتدائی تخمینہ سے زیادہ رقبہ پر ہو ئی ہے اور اس سے  بھی فصلوں کے نقصان کے اثرات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ 

ذرائع نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی تخمینہ سے زیادہ نہیں بڑھے گا کیونکہ سیلاب کی وجہ سے درآمدات کی کوئی اضافی ضرورت پیش نہیں آتی۔

تاہم آئی ایم ایف نے ابھی تک اقتصادی ترقی، درآمدات اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے بارے میں اپنے تخمینے کا اشتراک نہیں کیا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف کے کے دوران ہے اور

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب