وزیراعلیٰ بلوچستان کا گوادر میں پانی کے بحران کا نوٹس، ٹینکرز کے ذریعے سپلائی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گوادر میں پانی کے سنگین بحران کا نوٹس لیتے ہوئے میرانی ڈیم سے بذریعہ ٹینکرز پانی فراہمی فوری طور پر شروع کرنے کا حکم دے دیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی سربراہی میں گوادر میں پانی کی سنگین صورتحال کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: گوادر میں پانی اور بجلی کے مسائل کے حل کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان کے اہم اقدامات
اجلاس میں ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمان، سیکریٹری پی ایچ ای ہاشم غلزئی، کوآرڈینیٹر برائے واٹر و چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نورالحق بلوچ، ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین رحمان خان، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گوادر ڈاکٹر عبدالشکور خان سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے گوادر میں پانی کے سنگین بحران کا نوٹس لیتے ہوئے میرانی ڈیم سے بذریعہ ٹینکرز پانی فراہمی فوری طور پر شروع کرنے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ آج ہی سے سپلائی کا آغاز کیا جائے۔ اس عمل کی نگرانی کوآرڈینیٹر برائے واٹر و چیئرمین جی پی اے نورالحق بلوچ کریں گے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جب تک شادی کور ڈیم جی پی اے، ڈی سلینیشن پلانٹ اور سنٹسر بورنگ سسٹم سے مکمل اور فل کیپسٹی میں پانی کی فراہمی شروع نہیں ہو جاتی، اس وقت تک گوادر شہر کو ٹینکرز کے ذریعے پانی فراہم کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے اجلاس کے دوران اس بات پر بھی سخت زور دیا کہ ٹینکرز سپلائی کے حوالے سے ہر صورت شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ماضی میں ٹینکرز کے ذریعے پانی فراہمی میں کرپشن کی مثالیں سامنے آئی ہیں، جنہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اس تناظر میں انہوں نے چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی اور ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے کو سخت ہدایت جاری کی کہ اس بار شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو اور نظام کو مکمل طور پر کلئیر رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: گوادر: شادی کور تا چوڑ ڈگار واٹر ٹرانسمیشن لائن منصوبہ تکمیل کے قریب
وزیراعلی نے شادی کور ڈیم سے گوادر کو مطلوبہ صلاحیت کے مطابق پانی کی فراہمی نہ ہونے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کی ہدایت دی۔ اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن گوادر کو ہدایت کردی کہ شادی کور لائن میں آلات کی چوری کے روک تھام کے لیے فوری اقدامات کریں۔
اجلاس میں مستقبل کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ پانی کے بحران کا پائیدار حل نکالا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پانی بحران گوادر میر سرفراز بگٹی وزیراعلیٰ بلوچستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پانی بحران گوادر میر سرفراز بگٹی وزیراعلی بلوچستان وی نیوز گوادر میں پانی وزیر اعلی شادی کور بحران کا پانی کے کے لیے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔