WE News:
2026-07-24@03:53:38 GMT

ایف بی آر نے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کردی

اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT

ایف بی آر نے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کردی

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کردی۔

انکم ٹیکس گوشوارے ریٹرنز جمع کرانے کی تاریخ میں پندرہ اکتوبر تک توسیع

— Qamar Munawar (@Qamarulmunawar1) September 30, 2025

ایف بی آر نے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں 15 اکتوبر تک توسیع کی ہے، جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک 40 لاکھ سے زیادہ افراد نے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے ہیں۔

واضح رہے کہ قبل ازیں ایف بی آر نے کہا تھا کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع نہیں کی جائےگی، لہٰذا شہری 30 ستمبر رات 12 بجے تک ٹیکس ریٹرن جمع کرائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ایف بی آر تاریخ میں توسیع ٹیکس ریٹرن فیڈرل بورڈ آف ریونیو وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایف بی ا ر تاریخ میں توسیع ٹیکس ریٹرن فیڈرل بورڈ ا ف ریونیو وی نیوز جمع کرانے کی تاریخ میں تاریخ میں توسیع ٹیکس ریٹرن جمع ایف بی ا ر نے ٹیکس

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی