صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ دہشت گردانہ اقدام ہے، ایران
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مختلف ممالک کے عوامی اور انسانی حقوق کے سرگرم گروہوں نے فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت اور غزہ کے ظالمانہ محاصرے کو توڑنے کی کوشش کی، جس پر صہیونی رژیم کا یہ جارحانہ ردعمل بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے گلوبل صمود فلوٹیلا پر صہیونی رژیم کے حملے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور دہشت گردانہ اقدام قرار دیا ہے۔ بقائی نے کہا کہ یہ حملہ نہ صرف فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت میں سرگرم انسانی ہمدردی رکھنے والے گروپوں کے خلاف ہے بلکہ غزہ کے محاصرے کو توڑنے کی کوششوں پر بھی حملہ ہے۔ انہوں نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی رژیم کی یہ کارروائی غیر قانونی اور غیر انسانی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مختلف ممالک کے عوامی اور انسانی حقوق کے سرگرم گروہوں نے فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت اور غزہ کے ظالمانہ محاصرے کو توڑنے کی کوشش کی، جس پر صہیونی رژیم کا یہ جارحانہ ردعمل بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صمود کاروان پر حملہ اور اس کے شرکاء کی گرفتاریاں بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں اور عالمی برادری پر لازم ہے کہ فوری طور پر اس کے خلاف اقدامات اٹھائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کہا کہ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔