صمود فلوٹیلا کی سرگرمیوں پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
ریاست فلسطین نے اسرائیل کی جانب سے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملے اور بین الاقوامی قوانین، سمندری قوانین، انسانی حقوق اور دیگر ہمدردانہ اصولوں کی خلاف ورزی پر شدید مذمت کی ہے۔
فلسطین اتھارٹی نے کہا کہ فلوٹیلا پر سوار 470 سے زائد شرکاء کی جان و سلامتی کے لیے اسرائیل ذمہ دار ہے، جو غزہ کی محصور، قحط زدہ اور بمباری شدہ آبادی تک انسانی امداد پہنچا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی گرفتاری کی خبریں
فلسطین نے یاد دلایا کہ گلوبل صمود فلوٹیلا ایک پرامن اور شہری قیادت والا اقدام ہے، جس کا مقصد اسرائیل کی غیر انسانی اور غیر قانونی ناکہ بندی کو توڑنا اور قحط و نسل کشی کی پالیسی کا خاتمہ کرنا ہے، جیسا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت جائز ہے۔
فلسطین نے زور دیا کہ اسرائیل، جس کی فلسطین پر قبضہ غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے، نہ تو فلسطین کے ساحلی پانیوں پر اور نہ ہی بین الاقوامی پانیوں پر کوئی حاکمیت یا اختیار رکھتا ہے۔
گلوبل صمود فلوٹیلا کو بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ گزرنے کا حق حاصل ہے اور اسرائیل کو اس کی آزادیِ حرکت میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی رکاوٹوں کے باوجود صمود فلوٹیلا غزہ کی طرف رواں دواں
فلسطین نے فلوٹیلا کے شرکا کی بہادری اور ان کے عزم کی تعریف کی اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ انہیں تحفظ فراہم کرے تاکہ وہ غزہ کی ناکہ بندی توڑ کر انسانی امداد پہنچانے اور نسل کشی ختم کرنے کے اپنے مشن میں کامیاب ہوں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل صمود فلوٹیلا غزہ فلسطین فلسطین اتھارٹی فلوٹیلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل صمود فلوٹیلا فلسطین فلسطین اتھارٹی فلوٹیلا گلوبل صمود فلوٹیلا بین الاقوامی فلسطین نے
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔