اسرائیلی حملے کے بعد گلوبل صمود فلوٹیلا کی احتجاج کی کال، یونان میں مظاہرے شروع
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسرائیلی حملے اور کارکنوں کی گرفتاری کے بعد گلوبل صمود فلوٹیلا نے فلسطین کے حامیوں کو دنیا بھر میں احتجاج کی کال دے دی۔
فلوٹیلا کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ان کے قافلے پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف ردِعمل سامنے آئے۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ سفارتخانوں اور پارلیمان کے باہر مظاہرے کیے جائیں تاکہ فلسطین کے حق میں عالمی دباؤ بڑھایا جا سکے۔ مزید کہا گیا کہ ان کمپنیوں کے خلاف بھی احتجاج کیا جائے جو فلسطینیوں کی نسل کشی میں اسرائیل کے ساتھ شریک ہیں۔
فلوٹیلا کی کال کے بعد یونان میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو چکے ہیں۔
یاد رہے کہ اسرائیلی بحریہ نے فلوٹیلا کی متعدد کشتیوں پر دھاوا بول کر انہیں تحویل میں لے لیا تھا اور جہازوں پر موجود افراد کو حراست میں لے کر اسرائیلی پورٹ منتقل کردیا تھا۔ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ تمام کارکن محفوظ ہیں اور اسرائیل پہنچنے کے بعد انہیں ملک بدر کردیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فلوٹیلا کی کے بعد
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔