کراچی، فائرنگ کے مختلف واقعات میں ایک شخص جاں بحق، پولیس اہلکار سمیت 2 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
کراچی میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں ایک شخص جاں بحق اور پولیس اہلکار سمیت دو افراد زخمی ہوگئے۔
کیماڑی کے پی ٹی گراؤنڈ کے قریب اسنوکر کلب پر موٹر سائیکل سوار ملزمان نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں نور اللّٰہ نامی شہری جاں بحق ہوگیا۔
پولیس کے مطابق واقعے میں دو ہتھیار استعمال ہوئے اور پندرہ فائر کیے گئے۔
ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ مقتول نے دوسری شادی کر رکھی تھی اور پہلی بیوی سے تنازع چل رہا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق واقعہ ذاتی رنجش کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔
فائرنگ کا دوسرا واقعہ حسین آباد چورنگی کے قریب پیش آیا، جہاں فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوا۔
تیسرے واقعے میں کورنگی گودام چورنگی کے قریب ڈکیتی کی کوشش کے دوران مزاحمت پر فائرنگ سے پولیس اہلکار کانسٹیبل عثمان زخمی ہوگیا۔
ایس ایس پی کورنگی طارق نواز کے مطابق کانسٹیبل نے ایک ملزم کو پکڑ لیا تھا کہ اس کے ساتھی نے فائرنگ کردی، عثمان کو ٹانگ پر گولی لگی تاہم حالت خطرے سے باہر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔