ریلی میں طلبا و طالبات کی بڑی تعداد ہاتھوں میں پلے کارڈزاوربینرز اٹھائے شریک ہوئی۔ مظاہرین نے ’’فلسطین کی آزادی تک جنگ جاری رہے گی‘‘ اور ’’القدس ہماری جان‘‘ کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ طلبا و طالبات نے ریلی کے دوران فلسطین کے مظلوم عوام کیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ اسلام ٹائمز۔ منصورہ ہائی سکول و کالج کے طلبا و طالبات کی جانب سے فلسطین کے حق میں ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں طلبا و طالبات کی بڑی تعداد ہاتھوں میں پلے کارڈزاوربینرز اٹھائے شریک ہوئی۔ مظاہرین نے ’’فلسطین کی آزادی تک جنگ جاری رہے گی‘‘ اور ’’القدس ہماری جان‘‘ کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ طلبا و طالبات نے ریلی کے دوران فلسطین کے مظلوم عوام کیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ اساتذہ کرام اور پرنسپل نے بھی ریلی میں خصوصی شرکت کی اور طلبا کا حوصلہ بڑھایا۔ ریلی کے دوران فلسطینی شہداء کو خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا۔ ریلی کے شرکاء نے عالمی طاقتوں کی بے حسی اور مظالم پر مجرمانہ خاموشی کی بھی مذمت کی۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی طلحہ ادریس نے بھی ریلی میں خصوصی شرکت کی۔ ریلی کے اختتام پر شرکاء نے فلسطین کی آزادی، شہداء کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: طلبا و طالبات فلسطین کے ریلی میں ریلی کے

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق