اپنے بیان میں سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ ٹرمپ کا من پسند معاہدہ فلسطین کی آزادی کم اور اسرائیل کو تسلیم کرانے پر زور دے رہا ہے، اسرائیل ناجائز ریاست ہے جس کو کسی طور بھی تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ اسرائیل اور اس کے اتحادی یاد رکھیں دنیا غزہ کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، صمود فلوٹیلا کے امدادی کارکنوں کی عدم رہائی کھلی بربریت اور انسانیت سوز ظلم و جبر ہے، وزیراعظم شہباز شریف صمود فلوٹیلا کے امدادی کارکنوں سابق سینیٹر مشتاق احمد، گریٹا تھنبرگ سمیت تمام افراد کی رہائی کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالے، اسرائیل دنیا کو وہ واحد ظالم و جابر اور مذہبی شدت پسند ہے جس نے انسانیت کی خدمت کو جرم بنادیا ہے، ٹرمپ کا من پسند معاہدہ فلسطین کی آزادی کم اور اسرائیل کو تسلیم کرانے پر زور دے رہا ہے، اسرائیل ناجائز ریاست ہے جس کو کسی طور بھی تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صمود فلوٹیلا کے کارکنوں کی عدم رہائی اور اسرائیل ہٹ دھرمی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکمران قائد اعظم محمد علی جناح کے اُصولوں پر گامزن ہوتے ہوئے اسرائیل کو ناجائز ریاست دوٹوک میں قرار دے، دو ریاستی منصوبہ فلسطین پر غاصبانہ قبضے پر اسرائیل کو طاقت دے رہا ہے جس کی مذمت کرتے ہیں، اسرائیل 1967ء والی پوزیشن پر جائے اور بیت المقدس سمیت غزہ سے اپنی فوج بلالے بصورت دیگر انجام اسرائیل کی بربادی ہوگا، دنیا میں اسرائیل کے مظالم کے خلاف احتجاج اسرائیل سے نفرت کا اظہار اور فلسطینیوں سے یکجہتی ہے، اقوام متحدہ اسرائیل کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر کاروائی عمل میں لائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صمود فلوٹیلا کے اسرائیل کو

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم