صمود فلوٹیلا کے امدادی کارکنوں کی عدم رہائی انسانیت سوز ظلم و جبر ہے، شاداب نقشبندی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
اپنے بیان میں سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ ٹرمپ کا من پسند معاہدہ فلسطین کی آزادی کم اور اسرائیل کو تسلیم کرانے پر زور دے رہا ہے، اسرائیل ناجائز ریاست ہے جس کو کسی طور بھی تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ اسرائیل اور اس کے اتحادی یاد رکھیں دنیا غزہ کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، صمود فلوٹیلا کے امدادی کارکنوں کی عدم رہائی کھلی بربریت اور انسانیت سوز ظلم و جبر ہے، وزیراعظم شہباز شریف صمود فلوٹیلا کے امدادی کارکنوں سابق سینیٹر مشتاق احمد، گریٹا تھنبرگ سمیت تمام افراد کی رہائی کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالے، اسرائیل دنیا کو وہ واحد ظالم و جابر اور مذہبی شدت پسند ہے جس نے انسانیت کی خدمت کو جرم بنادیا ہے، ٹرمپ کا من پسند معاہدہ فلسطین کی آزادی کم اور اسرائیل کو تسلیم کرانے پر زور دے رہا ہے، اسرائیل ناجائز ریاست ہے جس کو کسی طور بھی تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صمود فلوٹیلا کے کارکنوں کی عدم رہائی اور اسرائیل ہٹ دھرمی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکمران قائد اعظم محمد علی جناح کے اُصولوں پر گامزن ہوتے ہوئے اسرائیل کو ناجائز ریاست دوٹوک میں قرار دے، دو ریاستی منصوبہ فلسطین پر غاصبانہ قبضے پر اسرائیل کو طاقت دے رہا ہے جس کی مذمت کرتے ہیں، اسرائیل 1967ء والی پوزیشن پر جائے اور بیت المقدس سمیت غزہ سے اپنی فوج بلالے بصورت دیگر انجام اسرائیل کی بربادی ہوگا، دنیا میں اسرائیل کے مظالم کے خلاف احتجاج اسرائیل سے نفرت کا اظہار اور فلسطینیوں سے یکجہتی ہے، اقوام متحدہ اسرائیل کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر کاروائی عمل میں لائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صمود فلوٹیلا کے اسرائیل کو
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔