بھارتی ساختہ کھانسی کے شربت نے مزید 8بچوں کی جان لے لی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی فارما کمپنی کے تیار کردہ کھانسی کا مشتبہ زہریلا شربت پینے سے 8 بچوں کی موت واقع ہو گئی ،جس کے بعد گھروں میں کہرام مچ گیا ہے۔ بھارتی فارما کمپنیوں کی جانب سے تیار کردہ کھانسی کے شربت سے ماضی میں بھی درجنوں اموات دنیا کے کئی ممالک میں رپورٹ ہوئی ہیں اور اب پھر ان ہی کمپنیوں کے تیار کردہ کف سیرپ نے 8 بچوں کی جان لے لی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بچوں کی اچانک اموات کے دل دہلانے والے واقعات مدھیہ پردیش اور راجستھان میں رونما ہوئے ہیں۔ جس کے باعث بچوں کے والدین اور اہل علاقہ شدید مشتعل ہو گئے۔ ریاستی حکومتوں نے بھی ان واقعات کے بعد کف سیرپس پر پابندی عائد کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ مدھیہ پردیش کے علاقے چندواڑہ میں 6 بچے اچانک گردے فیل ہونے کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور اس کی وجہ مبینہ طور پر سرکاری اسپتالوں کی جانب سے فراہم کردہ کھانسی کے شربت پینا بتائی گئی۔ اسی طرح راجستھان میں 5سالہ بچوں کی المناک موت بھی مبینہ طور پر کھانسی کا شربت پینے سے ہوئی ہے۔ بچوں کو یہ شربت سرکاری اسپتالوں سے فراہم کیے گئے تھے۔ ہ تمام واقعات 15روز کے دوران پیش آئے ہیں۔ بچوں کی اموات کے بعد ریاستی حکومتوں نے کولڈ ریف اور نیکسٹرو ڈی ایس یو نامی کف سیرپس کی اسپتالوں اور وہاں سے مریضوں میں تقسیم روک دی گئی ہے، جس میں مبینہ طور پر زہریلے ڈائیتھیلین گلائکول شامل ہے۔ نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔ڈسٹرکٹ چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر منیش شرما نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بخار یا طبیعت ناساز ہونے کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئی دوا نہ دیں۔ دوسری جانب ایک میڈیا رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ کھانسی کے جو شربت پینے سے بچوں کی موت ہوئی، اس پر پہلے ہی پابندی عائد کر کے بلیک لسٹ کیا جا چکا تھا، لیکن راجستھان اور مدھیہ پردیش کے سرکاری اسپتالوں میں بلا روک ٹوک یہ دوائیںوزیر اعلیٰ مفت دوا منصوبے کے تحت تقسیم ہو رہی تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار