حماس کے ردعمل کے بعد اسرائیل نے غزہ پر قبضے کا منصوبہ فوری روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
تل ابیب(انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل نے حماس کے ردعمل کے بعد ٹرمپ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر فوری عمل شروع کر دیا۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف کی زیرصدارت حالیہ پیشرفت کی روشنی میں اجلاس ہوا جس میں ڈپٹی چیف آف سٹاف، آپریشنز، انٹیلی جنس اور پلاننگ ڈائریکٹوریٹ کے سربراہان سمیت دیگر نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران اسرائیل کے چیف آف سٹاف نے یرغمالیوں کی رہائی کے منصوبے پرعمل درآمد کی تیاری آگے بڑھانے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی افواج کی حفاظت اولین ترجیح ہے، افواج کی حفاظت کیلئے آئی ڈی ایف کی تمام صلاحیتیں سدرن کمانڈ کو تفویض کی جائیں گی۔
دوسری جانب اسرائیلی مغویوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن نیتن یاہو مغویوں کی واپسی کیلئے فوری مذاکرات شروع کریں۔
حماس کے جواب کی روشنی میں اسرائیلی وزیراعظم کے آفس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل مغویوں کی رہائی کیلئے منصوبے کے پہلے مرحلے پر فوری عمل درآمد کی تیاری کر رہا ہے، جنگ کے خاتمےکیلئے کام جاری رکھیں گے جو صدر ٹرمپ کے وژن سے مطابقت رکھتے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکومت نے آئی ڈی ایف کو غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کو فوری روکنے کا حکم دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل اپنی کارروائیوں کو غزہ پٹی میں دفاع میں تبدیل کرے گا جبکہ غزہ شہر پر قبضہ کرنے کے آپریشن کو روک دیا جا ئے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔