انسٹاگرام میپ فیچر پاکستان میں متعارف، مقامی مقامات اور دوستوں سے جڑنے کا نیا طریقہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
میٹا نے پاکستان میں انسٹاگرام کا نیا فیچرانسٹاگرام میپ متعارف کرا دیا ہے، جو صارفین کو مقامی جگہوں، دوستوں اور پسندیدہ تخلیق کاروں کی سرگرمیوں کو دریافت کرنے کا ایک نیا، انٹرایکٹو اور دلچسپ طریقہ فراہم کرتا ہے۔ یہ فیچر صارف کے ڈی ایم ان باکس کے اوپر دستیاب ہے اور صارفین کو اپنی لوکیشن شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات سے متعلقہ کہانیاں، ریلز اور پوسٹس دیکھنے کی سہولت دیتا ہے۔
انسٹاگرام میپ صارفین کو یہ جاننے میں مدد دیتا ہے کہ ان کے دوست یا وہ افراد جنہیں وہ فالو کرتے ہیں، کسی کیفے، کنسرٹ یا مقام سے کیا شیئر کر رہے ہیں۔ اس فیچر کا خاص پہلو یہ ہے کہ پرائیویسی کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ لوکیشن شیئرنگ ڈیفالٹ طور پر بند ہوتی ہے اور صارف کے پاس مکمل اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی آخری لوکیشن کن سے شیئر کرے، چاہے وہ صرف قریبی دوست ہوں یا کوئی نہ ہو۔
کم عمر صارفین کے لیے والدین کو بھی شفاف کنٹرول حاصل ہے تاکہ وہ بچوں کی شیئرنگ ترجیحات کو دیکھ اور منظم کر سکیں۔ میٹا نے انسٹاگرام میپ میں چند اہم بہتریاں بھی کی ہیں جن میں میپ پر پروفائل فوٹوز کا خاتمہ، لوکیشن بند ہونے کی واضح نشاندہی، اور ٹیگ شدہ مواد کی بہتر وضاحت شامل ہے۔
میٹا کے مطابق یہ فیچر صارفین کو انسٹاگرام کے استعمال میں مزید سہولت، رابطے اور تحفظ فراہم کرے گا، جبکہ مقامی کمیونٹی سے جڑنے کے نئے مواقع بھی فراہم کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: صارفین کو
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔