آئی ایم ایف کا دباؤ، پی آئی اے کی ملکیت روز ویلٹ ہوٹل گرانے اور فلک بوس ٹاور تعمیر کرنے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
پاکستان نے نیویارک کے وسط میں واقع اپنے تاریخی روزویلٹ ہوٹل کے مستقبل کے حوالے سے نئے آپشنز پر غور شروع کر دیا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق حکومت اس جائیداد کو گرا کر جدید فلک بوس عمارت تعمیر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نیویارک میں روز ویلٹ ہوٹل کا مستقبل کیا ہوگا؟ حکومت نے غور شروع کردیا
میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کا کہنا ہے کہ حکومت ایک جوائنٹ وینچر ماڈل پر کام کر رہی ہے جس میں پاکستان زمین فراہم کرے گا، جب کہ نجی پارٹنر سرمایہ لائے گا۔
ان کے مطابق اگر ہوٹل کو برقرار رکھنا معاشی طور پر فائدہ مند ثابت ہوا تو اسے چلانے پر بھی غور کیا جائے گا۔
روزویلٹ ہوٹل، جو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) کی ملکیت ہے، وبا کے دوران بند ہوا، بعدازاں کچھ عرصہ پناہ گزینوں کے عارضی مرکز کے طور پر استعمال ہوا، اور اب تک بند ہے۔
وزیراعظم کے مشیر محمد علی نے کے مطابق اگلے چند ماہ میں شراکت دار کے انتخاب اور مارکیٹ تجزیے کے بعد صورتحال واضح ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:نیویارک انتظامیہ کا پی آئی اے روز ویلٹ ہوٹل کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کا اعلان
محمد علی کے مطابق حکومت کو امید ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نومبر 2025 تک مکمل ہو جائے گی، اور اسے چلانے کے لیے ملک کے چند بڑے کاروباری گروپ دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔
ان کے اندازے کے مطابق قومی ایئرلائن کو بحال کرنے کے لیے تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔
روزویلٹ ہوٹل کے مستقبل کے حوالے سے حکومت نے مشاورتی کمپنیوں کی تقرری کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔
اس مقصد کے لیے 7 بین الاقوامی اداروں، جن میں Citigroup Inc.
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کے لیے نہ صرف مالی دباؤ کم کرنے بلکہ نیویارک میں قیمتی جائیداد کے موثر استعمال کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایم ایف امریکا پی آئی اے روز ویلٹ ہوٹل مشیر محمد علی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف امریکا پی ا ئی اے روز ویلٹ ہوٹل مشیر محمد علی روز ویلٹ ہوٹل پی ا ئی اے محمد علی کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔