کراچی 10 کروڑ روپے کا غیر قانونی سامان ضبط، ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی ائرپورٹ پر کسٹمز حکام نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے بغیر ڈیوٹی ادا کیے اسمگل کیا گیا 10 کروڑ 30 لاکھ روپے مالیت کا قیمتی الیکٹرونک سامان ضبط کر لیا۔ ضبط شدہ سامان میں لیپ ٹاپس، آئی پیڈز، آئی فونز، میک بْکس، پلے اسٹیشنز اور 20 ہزار سے زاید میموری کارڈز شامل ہیں۔ ایف بی آر کے ترجمان کے مطابق کلکٹوریٹ آف کسٹمز ائرپورٹ کراچی نے فوری طور پر 2 ایف آئی آرز درج کر کے اس غیر قانونی کارروائی میں ملوث ایک غیر ملکی گراؤنڈ ہینڈلنگ کمپنی کے ملازمین کو گرفتار کر لیا۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ سامان کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کیے بغیر، گڈز ڈیکلریشن جمع کرائے بغیر باہر نکالا جا رہا تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ میزرز پیر جیلانی جنرل ٹریڈنگ ایل ایل سی (دبئی) کی جانب سے بھیجی گئی 5 کھیپوں کو کسٹمز کے WeBOC سسٹم سے چھپا کر جعلی گیٹ پاسز کے ذریعے کلیئر کیا گیا۔ ان کھیپوں کی مجموعی مالیت 38 کروڑ 40 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق کمپنی کے ملازمین نے غیر قانونی کلیئرنس کیلیے iCargo سسٹم کا غلط استعمال کیا۔ صرف ایک کنسائنمنٹ سے 258 آئی فون 16، 101 لیپ ٹاپ، 246 ٹیبلیٹس، 102 آئی پیڈز اور 46 پلے اسٹیشنز برآمد کیے گئے۔گیٹ پاس جاری کرنے والی خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس نے بیان دیا کہ اسے ’’اوپر سے ہدایات‘‘ ملی تھیں۔ کسٹمز حکام کے مطابق نجی کارگو ٹرمینل ایک ماہ سے زاید پرانا سی سی سی ٹی وی ریکارڈ فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ترجمان ایف بی آر نے مزید کہا کہ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں، جبکہ چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے واضح کیا ہے کہ اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے والے کسٹمز اہلکار کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک