بھارت کرکٹ کوسیاست زدہ کرنے سے باز نہ آیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
لاہور:
ایشیا کپ کے بعد آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ میں بھی بھارتی ہٹ دھرمی برقرار رہی، وہ کرکٹ کو سیاست زدہ کرنے سے باز نہ آیا.
بھارتی کپتان ہرمن پریت کورنے سوریا کمار یادیو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ٹاس کے بعد پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا کے ساتھ مصافحہ نہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق بھارت نے ویمنز ورلڈ کپ کو بھی سیاست کی نذر کر دیا، آر پریماداسا اسٹیڈیم کولمبو میں میچ سے پہلے سب کی نظریں ٹاس پر مرکوز تھیں مگر دلچسپی اس بات میں زیادہ تھی کہ آیا دونوں کپتان ایک دوسرے سے مصافحہ کریں گی یا نہیں.
ٹاس کے موقع پر جب بھارتی کپتان ہرمین پریت کور اور پاکستانی کپتان فاطمہ ثنائمیدان میں آئیں تو فضا میں غیر معمولی سنجیدگی محسوس کی گئی، فاطمہ ثنا نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا مگر دونوں کپتانوں کے درمیان مصافحے کا کوئی لمحہ دیکھنے کو نہ ملا.
فاطمہ ثنا کی طرف سے بات چیت کے بعدجب ہرمین پریت کی باری آئی تو دونوں نے محض ایک دوسرے کو دیکھا مگر کوئی دوستانہ اشارہ یا مصافحہ نہ ہوا، یہ منظر نیا نہیں تھا بلکہ ایشیا کپ سے شروع ہونے والی نو ہینڈ شیک کی بھارتی روایت ورلڈ کپ میں بھی برقرار رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔