عدلیہ پر عوامی اعتماد کم ہو رہا ہے‘ چیئرمین پی ٹی آئی کا عمران خان کے ٹرائل پر تحفظات کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251007-08-29
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے عمران خان کے ٹرائل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ پر عوامی اعتماد کم ہو رہا ہے۔ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی پیر کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہو سکی، تاہم امید ہے کہ منگل کو ہو جائے گی۔ انہوں نے عدالتی نظام میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2023ء اور 2024ء کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 24 لاکھ مقدمات التوا کا شکار ہیں، جن میں بانی پی ٹی آئی کا کیس بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری درخواست ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز بھی دیگر مقدمات کی طرح چلائے جائیں اور ان میں وکلا، میڈیا اور عوام کو رسائی دی جائے، کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح احکامات ہیں کہ یہ اوپن ٹرائلز ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں گزشتہ 8 ماہ سے بانی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت تاخیر کا شکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے واضح ہدایت دی ہے کہ جیل کے اندرونی معاملات پر اس طرح کی باتوں سے گریز کیا جائے اور جو کچھ ہو چکا، اس پر مزید تبصرہ نہ کیا جائے۔ علی امین گنڈا پور کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت تک وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا رہیں گے جب تک انہیں بانی پی ٹی آئی کا اعتماد حاصل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ نئی دہلی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔ذرائع کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کا واحد راستہ بامعنی سیاسی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحد موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی ایک اجتماعی سیاسی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن جیسے پلیٹ فارمز کی طرز پر دوبارہ سیاسی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مودی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی سیاسی رابطے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندے ان کے سیاسی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیگانگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں تعینات قابض بھارتی فورسز کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔