مصنوعی ذہانت کے عدلیہ میں استعمال سے متعلق خط سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(آن لائن)سردار اعجاز اسحاق خان نے فل کورٹ میٹنگ سے متعلق خط لکھاہے جس میں مصنوعی ذہانت کے عدلیہ میں استعمال کے معاملے پر بات کی گئی ہے۔۔فاضل جج نے جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کی فل کورٹ کی اختلافی آرا سے اتفاق کیاہے ۔چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے نام لکھے خط کی کاپی تمام ججز کو بھی ارسال کی گئیں۔ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے فل کورٹ میٹنگ سے متعلق خط لکھا۔خط میں جسٹس اسحاق نے لکھا کہ دنیا میں مصنوعی ذہانت کا استعمال عدلیہ میں شد و مد سے زیر بحث ہے لیکن مصنوعی ذہانت کے عدلیہ میں استعمال کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام کے تحت ہے اور اس لیے جو روبوٹ کرسی انصاف پر منصب کیے جائیں وہ طے شدہ پروگرام کے مرہون منت ہوں گے۔جسٹس اسحاق نے خط میں لکھا کہ ان کے فیصلے ہمیشہ ان پروگرامز کے تابع ہوں گے جو ان میں وقتا فوقتاً فیڈ کیے جائیں گے اور یہ کہ کمپیوٹر یا روبوٹ موافق حق یا آزادانہ رائے رکھنے کے قابل نہیں ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت عدلیہ میں
پڑھیں:
سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
حکومتِ پنجاب نے سیکیورٹی خدشات(security risk) کے پیشِ نظر دفعہ 144 کے تحت پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کھلے مقامات پر ڈرون کے استعمال پر پابندی برقرار رہے گی۔
مزید پڑھیں:واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرونز کے محدود استعمال کی اجازت ہو گی تاہم اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمے داری منتظمین پر عائد ہو گی۔