غزہ جنگ کے 2 سال: 1150 سے زائد فوجیوں کی ہلاکت کا اسرائیلی اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مقبوضہ بیت المقدس: غزہ پر مسلط کی گئی تباہ کن جنگ کے 2 سال مکمل ہونے پر قابض صہیونی وزارتِ دفاع نے اپنے فوجی نقصانات کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 1152 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 40 فیصد سے زیادہ وہ نوجوان اہلکار تھے جن کی عمریں 21 برس سے کم تھیں، جنہیں گزشتہ 2 برس کے دوران شدید لڑائیوں میں محاذ پر بھیجا گیا۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع نے تسلیم کیا کہ اس جنگ نے نہ صرف اسرائیلی ریاست پر بھاری مالی بوجھ ڈالا ہے بلکہ سماجی سطح پر بھی عوامی بے چینی اور ذہنی دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ مسلسل مزاحمت کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرنا پڑی اور میدانِ جنگ میں اسے شدید نقصان اٹھانا پڑا۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعداد و شمار اسرائیلی حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں کیونکہ تل ابیب کی جانب سے اب تک عوام کو جنگ کی اصل قیمت سے لاعلم رکھا گیا تھا۔
اب جب کہ بین الاقوامی سطح پر اسرائیل پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے اور غزہ میں انسانی بحران انتہا کو پہنچ چکا ہے، اسرائیلی عوام میں بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ آخر کب تک یہ خونریز جنگ جاری رہے گی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک بار پھر عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو اس کے جنگی جرائم پر جواب دہ بنایا جائے اور فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کو روکا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔